وزیراعظم کو آئی ایم ایف سے معاہدہ پر سب کو مبارکباد‘ کوشش ہوگی یہ آ خری پروگرام ہو ، شہباز شریف
اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول کا معاہدہ پر سب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے کا ایگزیکٹو بورڈ معاہدے کی منظوری دے گا ، کوشش ہوگی یہ آ خری پروگرام ہو ۔ وقت آگیا ہے کہ سب انفرادی و اجتماعی کوشش کرکے ملک کو بیرونی قرضوں سے چھٹکارا دلوائیں۔ ایف بی آر ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں ۔ کوشش ہو گی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ یہ آکری معائدہ ہو ۔ انہوں نے کہا مشکل سفر طے کرنے کے انفرادی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ انفرادی کوششیں کر کے بیرونی قرضوں سے جان چھڑائی جائے ۔ تحمل برداشت اور صبر کا مظاہرہ کر کے معیشت کو بہتری کی طرف لے جایا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے سفر کا آغاز ہو چکا بس انتھک محنت اس سفر کی کامیابی کی بنیادی ضرورت ہے ۔
انہوں نے کہا جلد پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا ۔ انہوں نے کہا کہ قرضو ں سے جان چھڑانی ہے اور اس پروگرام کو آخری بنانا ہے تو اس کے لئے ٹیکسوں کا بوجھ بر داشت کرنا پڑے گا ۔ صرف عام آدمی اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگانے سے ہی حالات کنٹرول نہیں ہوں گے ۔ بلکہ جو ٹیکس نہیں دے رہے انھیں ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا ۔ ہمیں ذہنی طور پر ٹیکس دینے کے لئے تیار ہونا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا ہم اربوں کھربوں روپے ٹیکس کی مد میں اکٹھا کر سکے ہیں لیک چند اربوں کے منصوبے کے لئے ورلڈ بنک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے پاس چلے جاتے ہیں ۔ یہ کس قدر خفت کا مقام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹیلائزیشن کی جار ہی ہے ۔ ہمیں جدید ترین ٹیکنا لوجی کو اپنانا ہے ۔ ایف بی آر کو جو بھی چاہیے حکومت فراہم کرے گی ۔ بس آپ محنت کا جذبہ پیدا کریں ۔ میرے پاس کسی کی سفارش کے لئے کوئی گنجائش نہیں میرا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں بلکہ میرے لئے قومی مفاد اہم ہے ۔ تمام سرکاری افسر بھی قومی مفاد کو ترجیح بنائیں ۔ ایسے لوگ جو دھیلا تک ٹیکس نہیں دیتے ان کو ٹیکس نیٹ میں لا ئیں ۔ انہوں ایف بی آر حکام کو تنبیہہ کی کہ آپ نے ٹیکس دہندگان کو سہولتیں دینی، سرمایہ کاروں اور تاجروں کو تنگ نہیں کرنا، ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے ہیں ۔
Comments are closed.