فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے، کسی جوڑ توڑ کا حصہ نہیں بنیں گے ‘بانی پی ٹی آئی
اسلام آباد(آن لائن)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم اورچیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے،موجودہ صورت حال میں کسی جوڑ توڑ کا حصہ نہیں بنیں گے ،حکومت میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں،ملک بچانا ہے تو صاف وشفاف انتخابات کراناہوں گے ،کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے مذاکرات کے لئے دو شرائط بتا دیں ،ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کیسز ختم کیئے جائیں اور ہماری خواتین کو فوری رہا کیا جائے ، ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے، ہمارا مینڈیٹ واپس ہوا تو حکومت گر جائے گی ،حکومت گرنے کے باوجود باجوہ کے ساتھ دو مرتبہ ملاقات کی ،مذاکرات کے لیے اسد عمر، پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی پر مشتمل کمیٹی بنائی تھی ،مجھے کہا گیا کہ جب تک بڑے صاحب ہیں تو الیکشن نہیں ہو سکتا،انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس منیر کے فیصلوں سے طاقتور قانون سے اوپر چلا گیا ،انتخابات میں ہمیں ایک حلقے میں 4 نشانات دیئے گئے تھے ،بنگلہ دیش میں بھی ایک سیاسی جماعت کو الیکشن جتوایا گیا تھا ،اسلام آباد کے تین حلقوں کھلنے کا سب کو خوف ہے، کمشنر راولپنڈی نے انتخابات پر سچ بولا تھا ،
چیف الیکشن کمشنر کو فوری عہدے سے استفعی دینا چاہئے اور اس پر آرٹیکل 6 کی کاروائی ہونی چاہئے ،انہوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے میرے خلاف بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں ،جسٹس گلزار نے کہا تھا کہ میرے کیسسز قاضی فائز عیسی نہیں سنیں گے ،قاضی فائز عیسی کو میرے کیسز الگ ہونا چاہئے، قاضی فائز عیسی نے اوپن کورٹ میں کہا کہ وہ بیوی کی باتیں سنتے ہیں ،چیف جسٹس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خط لکھوں گا ،محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کی درخواست کو نہیں سنا جارہا، انسانی حقوق کا تحفظ چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ہمیں ایک حلقے میں 4 نشانات دیئے گئے تھے بنگلہ دیش میں بھی ایک سیاسی جماعت کو الیکشن جتوایا گیا تھا ‘اسلام آباد کے تین حلقوں کھلنے کا سب کو خوف ہے، کمشنر راولپنڈی نے انتخابات پر سچ بولا تھا ،سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہوں، فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے‘چیف الیکشن کمشنر کو فوری عہدے سے استعفی دینا چاہئے اور اس پر آرٹیکل 6 کی کاروائی ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے میرے خلاف بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں ‘جسٹس گلزار نے کہا تھا کہ میرے کیسز قاضی فائز عیسی نہیں سنیں گے ‘قاضی فائز عیسی کو میرے کیسز الگ ہونا چاہئے، قاضی فائز عیسی نے اوپن کورٹ میں کہا کہ وہ بیوی کی باتیں سنتے ہیں ‘چیف جسٹس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خط لکھوں گا ‘محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کی درخواست کو نہیں سنا جارہا، انسانی حقوق کا تحفظ چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے۔
Comments are closed.