وطن عزیز "جوڈشل مارشل لاء” کی زد میں

ملک میں اس وقت جس طرح کے حالات ہیں اگر ایسے حالات ماضی میں ہوتے تو شاید اب تک جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جاتی، مگر جب اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ واضح اعلان کیا گیا کہ اب اسٹیبلشمنٹ سیاسی معاملات سے دور ہیں تو کسی نے یقین نہیں کیا مگر کیا اب بھی لوگوں یہ یقین نہیں آیا کہ واقعی اسٹیبلشمنٹ نے خود کو سیاسی معاملات سے الگ تھلگ کرلیا ہے۔ ایک حقیقت یہ ہے جس سے سب نظریں چرا رہے ہیں کہ اس وقت ملک میں سول یا ملٹری مارشل لاء نہیں مگر جوڈیشل مارشل لاء اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصہ کے واقعات بالخصوص سیاسی کیسز کے فیصلے اٹھا کر دیکھ لیں تو بات واضح ہو جائے گی اس وقت عالم یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ جو پہلے بھی کسی کے سامنے جوابدہ نہیں تھی اب تو بے لگام گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑے چلی جا رہی ہے اور اس کا خیال یہی ہے کہ جو فیصلہ وہ کر رہی ہے وہی حرف آخر ہے۔

ابھی حال ہی میں جو مخصوص نشستوں کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ آیا ہے اسی کو دیکھ لیں واضح طور پر دکھائی دے گا کہ سیاسی وابستگیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے صادر کیے جا رہے ہیں

ایک ایسا کیس جس میں پی ٹی آئی نے ریلیف مانگی ہی نہیں اُس میں سہولت کاری کے ذریعے انہیں نواز دیا گیا اور جس جماعت نے ریلیف مانگی اس کو ڈانٹ ڈپٹ کرکے خاموش کرا دیا۔

معزز ججز کا رویہ ایسا ہے کہ اگر اس پر کھل کر کوئی بات کرے تو اسے یہ اپنی توہین سمجھ لیتے ہیں- یہ عدالتی آمریت نہیں تو کیا ہے۔۔۔۔ُ۔۔؟

قانونی ماہرین نے فیصلے کے بعد آئین کے مطابق ثابت کیا کہ اعلیٰ عدلیہ نے جو فیصلہ دیا ہے اس سے سیاسی بحران تو پیدا ہو گا ہی مگر ساتھ ہی آئینی بحران بھی سر اٹھائے گا اور پھر کسی سے کچھ سنھبالا نہیں جائے گا-

اعلیٰ عدلیہ میں بیٹھےکچھ مخصوص ججز دراصل اس وقت آئین اور قانون کو پیش نظر نہیں رکھ رہے بلکہ ان پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کی یلغار کے باعث کپکپی کا عالم ہے کہ اگر پی ٹی آئی کیخلاف فیصلہ دیدیا تو سوشل میڈیا پر بیرون ملک سے جبران الیاس انکی اور ان کے اہلخانہ کی ایسی کی تہسی کر ڈالے گا۔ کچھ ججز کے اپنے ذاتی مفادات کا بھی معاملہ ہے

اب وقت آگیاہے کہ پارلیمان اپنی ساکھ کو بچانے کیلئے اپنا تاریخی کردار ادا کرے- پارلیمان کو چاہئے کہ وہ اپنی بالا دستی سختی سے قائم کرے اور اعلیٰ عدلیہ کو یہ باور کرائے کہ کسی کو بھی آئین سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

عدلیہ کے فیصلوں میں ذاتی پسند و ناپسند نظر آرہی ہے، عدلیہ ملک کو عدم استحکام کی جانب لیکر جا رہے ہیں، اعلیٰ عدلیہ کو یہ بتایا جائے کہ آئین لکھنا یا بنانا پارلیمان کا کام ہے آپ کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے مگر آپ نے اپنا اصل کام چھوڑ کر آئین بنانا شروع کردیا ہے۔

جس طرح کے حالات اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں ان کو اس نہج تک پہنچانے میں کسی اور کا نہیں بلکہ صرف اعلیٰ عدلیہ کا ہاتھ ہے، اور آنے والے دنوں میں اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو پھر ہر کوئی جوڈیشل مارشل لاء کا سامنا کرے گاجس سے ملک کے غیر مستحکم ہونے کا اختمال ہے

Comments are closed.