بانی پی ٹی آئی کی 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستوں پر پراسکیوشن سمیت دیگر کو نوٹسز جاری

لاہور (آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف کی 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواستوں پر پراسکیوشن سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا،عدالت نے بانی پی ٹی آئی پر درج مقدمات اور الزامات کی تفصیلات اور پراسیکیوٹر جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو بھی آج ( بدھ )طلب کرلیا۔جسٹس طارق سیلم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔وکیل بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ملزم کو جسمانی ریمانڈ کے لیے فزیکلی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، اس بنیاد پر انسداد دہشت گردی عدالت کا جسمانی ریمانڈ غیر قانونی ہے۔وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت بانی پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ غیر قانونی قرار دے، جس پر جسٹس انوار الحق پنوں نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ ملزم جج صاحب کے سامنے پیش ہوکر اپنی بات بیان کرسکے۔

وکیل عثمان ریاض گل نے جواب دیا کہ جی بالکل قانون بھی یہی کہتا ہے، قانون کے مطابق ملزم کی فزیکل حاضری عدالت میں لازمی ہے۔درخواستوں میں موقف اپنایا گیا ہے کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ حقائق کے منافی دیا۔ بعد ازاں عدالت نے پراسکیوشن سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔یاد رہے کہ 5جولائی کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پولیس کی بانی پی ٹی آئی کی 9مئی کے بارہ مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر 10 روزہ ریمانڈ دے دیا تھا۔اس سے ایک روز قبل لاہور پولیس نے اڈیالا جیل جاکر 9مئی کے 12مقدمات میں سابق وزیر اعظم کی گرفتاری ڈالی تھی، جس کے بعد 5جولائی کو بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

Comments are closed.