میڈیا مالکان کو ایک ارب60 کروڑ واجبات ادا کر دیئے، وزیر اطلاعات و نشریات

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کو بتایا کہ میڈیا مالکان کے ایک ارب60 کروڑ سے زائد واجبات ادا کر دیئے گئے ہیں باقی واجبات کی ادائیگی پر بھی کام جاری ہے، پی ٹی وی سپورٹس کماؤ پوت ہے جبکہ پی ٹی وی نیوز پالیسی میں تبدیلی لارہے ہیں ،نجی ٹی وی سے اینکرز ہائیر کئے جارہے ہیں ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا پولین بلوچ کی زیر صدارت اجلاس ہوا ،وزارت اطلاعات کے حکام نے 7 اداروں کے کام اور فعالیت و کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ڈی جی انٹرنلپبلسٹی ونگ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اشتہارات، پالیسی سازی، اخبارات کی سرکولیشن امور، اے بی سی اور حکومتی پالیسی کی ڈیجیٹل میڈیا کے زریعے تشہیر امور میں شامل ہیں،وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت سنبھالی تو 1 عشائیہ 6 ارب روپے کے واجبات تھے، اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ عدم ادائیگی پر ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتی ہیں،2 ماہ میں ہم نے میڈیا مالکان کو یہ 1 عشاریہ 6 ارب روپیہ ادا کیا،چینلز کے دو زرائع آمدن ہیں،پاکستان میں اس وقت کسی چینل کے اشتہارات بند نہیں ہیں، میڈیا ریٹنگ کمپنی میڈیا لاجک کے ذریعے لی جاتی ہے جس پر سب کا اتفاق ہے، ایسے اخبارات موجود ہیں جو کمروں سے باہر نہیں جاتے، طے کیا ہے جو اے بی سی سرٹیفیکیشن والے اخبارات ہیں صرف انہیں اشتہارات دیئے جائیں گے،ہم نے نیوز پرنٹ پر 10 فیصد ٹیکس لگنے دیا ہے اور نہ ہی ہم نے میڈیا ہاوسز پر ایک 25 فیصد ٹیکس بھی نہیں لگنے دیا ہے، پی ٹی آئی حکومت میں ڈیجیٹل میڈیا ونگ بنایا گیا تھا، اتنی بڑی حکومت ہے اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ میں 25 ملازمین کام کرتے ہیں،ہم نے سینٹر فار ڈیجیٹل کمیونیکیشن بنا رہے جو پاک چائینہ سینٹر میں ہوگا،ہم یونیورسٹی کے بجائے ایک سینٹر قائم کررہے ہیں، یہ سینٹر پاکستان کے امیج اور حکومتی اقدامات کی ترویج کرسکے گا،

ہم نے ایکسپرٹ اور کنسلٹنٹس کو ہائر کرلیا ہے، شاہیرہ شاہد بہت قابل افسر رہی ہیں جو آج ریٹائر ہورہی ہیں، انہوں نے بہت کام کیا ہے،پاکستانی مشنز میں ہمارے افسر مقرر ہیں،پی ٹی وی کو ہم ری ویمپ کررہے ہیں پرائیویٹ سیکٹر سے اچھی ریٹنگز والے اینکرز ہائر کرلئے گئے ہیں،پی ٹی وی پر اپوزیشن کو بھی مناسب کوریج دی جائے گی،فلم میں پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کررہے ہیں سوشل ایشوز پر 12، 13 فلمیں بنا رہے ہیں،فلم کے لئے ابتدائی طور پر ایک ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔وزیر اطلاعات و نشریات نے مزید بتایا کہ حکومت نے کم سے کم اجرت 37 ہزار مقرر کی ہے،ہم نے میڈیا مالکان سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ کسی ملازم کی تنخواہ 37 ہزار سے کم نہیں ہونا چاہے، نیوز پرنٹ ہم امپورٹ نہیں کرتے ہیں اب زیادہ تر اخبارات ڈیجیٹل میڈیا پر منتقل ہوچکے ہیں، اب مصنوعی ذہانت کے اینکر آگئے ہیں اگر وہ ٹرینڈ چل گیا تو کئی اینکرز فارغ ہوجائیں گے، ہم چاہتے ہیں اخبارات اور میڈیا کے تمام شعبہ جات کام جاری کر رکھیں اور ہماری سپورٹ ملتی ہے، آئی ٹی این ای نے گزشتہ کافی عرصہ میں بہت اچھا کام کیا ہے،اگر قائمہ کمیٹی ترمیم لائے تو ہم چاہتے ہیں ویج بورڈ میں الیکٹرانک میڈیا کو بھی شامل کرلیا جائے،ویج بورڈ میں الیکٹرانک میڈیا شامل ہوجائے تو انکا بھی فائدہ ہوجائے گا،اس سال ہم نے قومی کھیلوں کو پی ٹی وی سے نشر کیا ہے، ہمارا کماو پوت اس وقت پی ٹی وی اسپورٹس ہے دگنا منافع ہوا ہے،ہم چاہتے ہیں پی ٹی وی انٹرٹینمنٹ کو آوٹ سورس کردیا جائے، اس موقع پر مہتاب راشدی نے کہا کہ مجھے آپکی باتیں سن کر دل بیٹھا جارہا ہے،پی ٹی وی ویسے ہی بیٹھا جارہا ہے جس طرح اوپر پاکستان کا حال ہے،مجھے آپکی آوٹ سورس پالیسی سے اختلاف ہے، آپکو چاہے کہ اپنے پروڈیوسر کو کہیں کام کریں کچھ کرکے دکھائیں،آپ صرف ایک چیز آوٹ سورس نہ کریں پھر پورا پی ٹی وی آوٹ سورس کردیں، جس پر عطاء تارڑ نے کہا کہ جی ہونا ایسے ہی چاہے کہ پی ٹی وی کو آوٹ سورس کردیا جائے،آپکی سربراہی میں کمیٹی بنا دیتے ہیں آپ ڈرامہ پروڈکشن پر لائحہ دیدیں، جس پرمہتاب راشدی نے کہا کہ جی بنا دیں کچھ کر دیں تے ویسے آپکو یہ چیلنج لینا چاہے، عطاء تارڑ نے کہا کہ پی ٹی وی کو گھر کا کوئی چوتھا بندہ نہیں دیکھتا، ہم پی ٹی وی نیوز کو لبرل کرنا چاہتے ہیں اس لئے باہر سے اینکر لا رہے ہیں

،پی ٹی وی کو جو حال ہے وہ سیاسی مداخلت کا نتیجہ ہے، ماضی میں پی ٹی وی کے ڈرامے پوری دنیا میں دیکھے جاتے تھے، پی ٹی وی کے ماضی کے ڈرامے آج بھی مقبول ہیں، اس وقت پی ٹی وی میں ڈراموں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، پی ٹی وی میں تفریح کو آنے والے وقت میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ میں لائیں گے، پی ٹی وی میں بہتری لا رہے ہیں،پی ٹی وی سپورٹس کا ریونیو ڈبل کر کے دکھایا ہے، پی ٹی وی میں انٹرٹینمنٹ کے پروگراموں میں بہتری کی ضرورت ہے، پی ٹی وی نیوز میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے،سیکرٹری اطلاعات نے کمیٹی کو بتایا کہ اے ٹی وی کو ہم چاہتے ہیں پرائیویٹائز کردیا جائے، اس ادارے میں ساڑھے 3 سو سے زائد ملازمین ہیں جنکی تنخواہوں کی ادائیگی کے مسائل درپیش ہیں،قائمہ کمیٹی کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل و پی آئی او مبشر حسن نے پی آئی ڈی سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ شہریوں کو موضوعات پر مصدقہ معلومات فراہم کرے کے لئے کام جاری رکھے ہوئے ہیں، ہم ڈیجیٹل میڈیا کے زریعے بھی لوگوں تک معلومات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے پورے ملک میں 858 ملازمین کام کررہے ہیں، اسلام آباد ہیڈ کوارٹر ہے تو اس لئے یہاں ملازمین زیادہ ہیں، شفاف اسکرین ٹیسٹ کے بعد بھرتی کی جاتی ہے،ہمارے رپورٹرز نہیں ہوتے پی آر اوز تعینات ہوتے ہیں جو ذمہ دارانہ اسٹوری فراہم کرتے ہیں،ہم عوام کے جذبات حکومت کو بھجواتے ہیں،اس موقع پر وقاص اکرم شیخ نے کہا کہ آپ نے ان دنوں میں عوام کے کس قسم کے جذبات سرکار کو پہنچائیں ہیں،جس پر مبشر حسن نے کہا کہ ہم وہ رجحانات حکومت کو پہنچاتے ہیں جو حقائق پر مبنی ہوں،ہمارا ایک شعبہ ہے پلس اینالسس یونٹ وہ عوام کے رجحان پر رپورٹ بناتا ہے،وزیر اعظم میڈیا باالخصوص اخبارات کو زیادہ توجہ دیتے ہیں،وزیر اعظم میڈیا سے ملنے والی آرا کو بھی توجہ دیتے ہیں، حکومت کی کمیونیکیشن اور ترقیاتی کاموں کی ترویج اور اشتہاری مہم بھی چلاتے ہیں، اس میں کوئی سیاسی پہلو شامل نہیں یہ خالصتا عوامی دلچسپی پر مینی ہوتی ہے،گزشتہ 5 سال میں حکومت پاکستان نے 10 ارب روپے پبلک نوٹس اور اشتہارات پر جاری کئے ہیں،گزشتہ 3 ماہ کے اخراجات آئندہ اجلاس میںپیش کردوں گا،اشتہاری مہمات کا سافٹ وئیرز کے ذریعے مانیٹرنگ کی جاتی ہے،قائمہ کمیٹی میں پی آئی او مبشر حسن کے والد کے انتقال پر دعا مغفرت بھی کرائی گئی

Comments are closed.