توہین الیکشن کمیشن:اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان اور فواد چوہدر ی کیخلاف جیل ٹرائل کالعدم قرار
اسلام آباد ( آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف میں جیل ٹرائل کالعدم قرار دے دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس میں جیل ٹرائل کالعدم قرار دے دیا جبکہ جیل ٹرائل کے دوران فرد جرم کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے یہ حکم جمعرات کو جاری کیاہے۔11 جولائی کو بانی پی ٹی آئی اور سابق وفاقی وزیر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی
، ممبر الیکشن کمیشن نثار درانی توہین کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی تھی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے توہین الیکشن کمیشن اور توہین چیف الیکشن کمشنر کیس میں فواد چوہدری کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے کیس کی ۔سماعت 7 اگست تک ملتوی کردی تھی۔واضح رہے کہ اگست 2022 میں الیکشن کمیش نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو مختلف جلسوں، پریس کانفرنسز اور متعدد انٹرویوز کے دوران الزمات عائد کرنے پر الیکشن کمیشن کی توہین اور ساتھ ہی عمران خان کو توہین چیف الیکشن کمشنر کا نوٹس بھی جاری کیا تھا۔الیکشن کمیشن نے نوٹس میں عمران خان کے مختلف بیانات، تقاریر، پریس کانفرنسز کے دوران اپنے خلاف عائد ہونے والے بے بنیاد الزامات اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کے خلاف استعمال ہونے والے الفاظ، غلط بیانات و من گھڑت الزامات کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کو 30 اگست کو اپنے جواب کے ساتھ کمیشن میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا تھا۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کو توہین الیکشن کمیشن کے نوٹسز جاری کیے ہیں اور کہا گیا ہے کہ 30 اگست کو ذاتی حیثیت یا بذریعہ وکیل پیش ہوں۔نوٹس میں کہا گیا تھا کہ پیمرا کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے 11 مئی، 16 مئی، 29 جون، 19، 20 جولائی اور 7 اگست کو اپنی تقاریر، پریس کانفرنسز اور بیانات میں الیکشن کمیشن کے خلاف مضحکہ خیز اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کی، توہین آمیز بیانات دیے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے جو براہ راست مرکزی ٹی وی چینلز پر نشر ہوئے۔
Comments are closed.