مبارک ثانی کیس، کچھ عناصر اپنی آراء کو جید علماء کرام کے موقف سے زیادہ معتبر پیش کررہے ہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد ( آن لائن) سپریم کورٹ نے مبارک ثانی نظر ثانی کیس سے متعلق اعلامیے میں کہاہے کہ الزام تراشی کرنے والے اپنی آراء کو جید علماء کرام کے موقف سے زیادہ معتبر پیش کررہے ہیں جو غیر مناسب ہے،نظر ثانی کے فیصلے میں وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے پہلے سے موجود فیصلوں کی بھی پابندی کی گئی ہے، آئین پاکستان آزادی اظہار کا حق دیتا ہے، آزادی رائے کا حق اسلام کی عظمت اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا

، فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پراپیگنڈہ کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، فیصلے کو غلط مفہوم پہنانا فساد فل ارض کے زمرے میں آتا ہے۔جمعہ کوسپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں مزیدکہاہے کہ فیصلہ اردو میں جاری کیا گیا تاکہ عوام الناس آسانی سے سمجھ سکیں، فیصلے میں واضح کہا گیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کامل اور غیر مشروط ایمان کے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہوتا، فیصلے میں واضح کہا گیا کہ احمدیوں کے دونوں گروہ دین، شریعت اور آئین و قانون کے مطابق غیر مسلم ہیں، احمدیوں کو عوامی یا نجی سطح پر مسلمانوں میں اپنا عقیدہ پھیلانے کا حق نہیں،پنجاب حکومت کی نظر ثانی درخواست منظور کرتے ہوئے اس بات کی تفصیلی وضاحت کی گئی، نظر ثانی درخواست کی سماعت کے دوران پاکستان کے مستند علمی اداروں سے رہنمائی طلب کی گئی، دوران سماعت متعدد افراد کو بھی اپنے تحریری دلائل دینے کا موقع فراہم کیا گیا۔نظر ثانی درخواست کی سماعت کے دوران پارلمانی کمیٹی کی کاروائی کا جائزہ بھی لیا گیا، عدالت نے مفتی محمود، مولانا ظفر انصاری، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور اور دیگر نامور اہل علم کے بیانات سے بھی رہنمائی حاصل کی، فیصلے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی و دیگر ممتاز علمائے کرام کی تحریروں پر غور کیا گیا

، سپریم کورٹ نے نظر ثانی کے فیصلے میں وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے پہلے سے موجود فیصلوں کی بھی پابندی کی، اس سب کے باوجود فیصلے پر بے بنیاد الزام تراشی کا آغاز کیا گیا ہے، الزام تراشی کرنے والے اپنی آراء کو جید علماء کرام کے موقف سے زیادہ معتبر پیش کرہے ہیں جو غیر مناسب ہے، آئین پاکستان آزادی اظہار کا حق دیتا ہے، آزادی رائے کا حق اسلام کی عظمت اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا، فیصلے کو غلط مفہوم پہنا کر پراپیگنڈہ کرنا ملک و قوم کی خدمت نہیں، فیصلے کو غلط مفہوم پہنانا فساد فل ارض کے زمرے میں آتا ہے، آئین و قانون میں بھی ایسی ہنگامہ آرائی کی اجازت نہیں ہے۔

Comments are closed.