جماعت اسلامی بیٹھ کر بات کر ے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، عطاء اللہ تارڑ
اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی بیٹھ کر بات کریں ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں ،ملک کی سالمیت کیلیے جماعت اسلامی لیاقت باغ میں پرامن جلسہ کرے، ڈی چوک میں احتجاج کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی،کوئی تخریب کار امن وامان کو سبوتاژ کرسکتاہے ،عوام کو ریلیف کی فراہمی اولین ترجیح ہے ،بجلی کے بلوں کی مد میں50ارب روپے کی سبڈی دی گئی ۔ امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کوتحریک انصاف واپس لیکرآئی آج وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے جلسے سے بڑا پرجوش خطاب کیا، علی امین گنڈا پورنے میٹنگ میں تعاون کا یقین دلایا، ہم ان کی مجبوری سمجھتے ہیں انہوں نے اڈیالہ بھی جواب دینا ہوتا ہے، ایک طرف کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے، دوسری طرف کہتے ہیں کسی کی اجارہ اداری قائم نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کوتحریک انصاف واپس لیکرآئی
، بٹ گرام میں درختوں کے کاٹنے کا بہت بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے، ٹمبرمافیا وہاں آپریٹ کررہا ہے، ٹمبرمافیا میں علی امین گنڈا پورکا اپنا ایک وزیرملوث ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بیانات تضادات کا مجموعہ ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بتائیں کہ ٹمبرمافیا کی خلاف کیا اقدامات کیے۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کولیاقت باغ میں جلسے،دھرنے کی اجازت دی گئی تھی، انتظامیہ کے ساتھ تمام معاملات طے کیے گئے تھے، آئے روزکوئی نا کوئی گروپ ٹریفک جام کردیتا ہے، ٹریفک جام کی وجہ سے لوگوں کومشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ لیاقت باغ کے بعد اسلام آباد کی طرف پیش قدمی سمجھ نہیں آتی، حافظ نعیم الرحمان نے گزارش ہے، حکومت مذاکراتی ٹیم تشکیل دینے کوتیارہے، جماعت اسلامی بیٹھ کرمذاکرات کرے، اکنامک ریفارمزایجنڈے کے ثمرات سامنے آرہے ہیں، بجلی کے بلوں کی مد میں50ارب روپے کی سبڈی دی گئی ہے، بجلی کی سبسڈی سب لوگوں کیلیے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کوریلیف کی فراہمی ترجیح ہے، وزیراعظم بیس،بیس گھنٹے کام کررہے ہیں، وزیراعظم کی اولین ترجیح ہے، جب ہم نے اقتدارسنبھالا توملک ڈیفالٹ کے دہانے کھڑا تھا، ہم نے ملک کوڈیفالٹ ہونے سے بچایا، آئی ایم ایف معاہدے کوسبوتاڑکرنے کیلیے لیٹرلکھے جارہے تھے۔عطا تارڑ نے مزید کہا کہ آج اللہ کا شکرہے روپے کی قدرمستحکم ہورہی ہے،پچھلے سال کی نسبت مہنگائی کم ہورہی ہے، دوست ممالک کے ساتھ ہمارے روابط بڑھے ہیں، آئی ایم ایف سے بڑی مشکل سے معاہدہ طے ہوا ہے، سٹاک مارکیٹ میں بہتری آرہی ہے۔وفاقی وزیز اطلاعات کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی زندگیوں کومشکلات میں نہیں ڈالنا چاہیے
،مزاحمت کی سیاست سے ہٹ کرجماعت اسلامی بیٹھ کربات کرے، طارق فضل چودھری،امیرمقام اورمیں جماعت اسلامی کی بات کوسنیں گے، تین رکنی کمیٹی جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کریگی۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ اچھے ماحول میں معاملات کوآگے لیکرچلیں گے اور لیاقت باغ میں ہی احتجاج کرے، ملک کی سالمیت کیلیے جماعت اسلامی لیاقت باغ میں پرامن جلسہ کرے، جب بھی جماعت اسلامی عندیہ دیگی حکومت کی تین رکنی ٹیم بات کریگی، ڈی چوک میں احتجاج کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی، کوئی تخریب کارگھس کرامن وامان کونقصان پہنچاسکتا ہے۔ امیرمقام کا کہنا تھا کہ جیسے باتیں کی جارہی ہیں خیبرپختونخوا میں ویسا کوئی آپریشن نہیں ہورہا جیسا علی امین گنڈا پورنے کہا امریکا سے ملنے والے ڈالر کدھرگئے؟ علی امین گنڈا پور،پرویزخٹک،محمود خان سے پوچھیں تب وہ وزیراعلیٰ تھے۔انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پوراڈیالہ جیل میں اپنے لیڈرسے پوچھے، امن وامان بہترکرنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ذمہ داری ہے،علی امین گنڈا پورتقریرکرکے چلے جاتے ہیں، علی امین گنڈا پورسیاست نہ چمکائیں، ڈالرملنے کی باتیں کرنے والے اس کی وضاحت بھی کریں۔امیرمقام کا کہنا تھا کہ قیام امن کے لیے ریاست کی رٹ قائم کرنا ہوگی، سکیورٹی کے حوالے سے چند لوگ غیرضروری بیان بازی کررہے ہیں، علی امین گنڈا پورکے جلسے کودیکھ کرضروری سمجھا جواب دوں۔
Comments are closed.