اسلام آباد (آن لائن) حکومت نے ایک بار پی ٹی آئی کو مذکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پھر کہتے ہیں آئیں ، بیٹھیں ، معا ملات کو سلجھائیں ،بات کرو ، برباد مت کرو ، سلجھاوٴ ، الجھاوٴ مت ، ہمیں ہٹانا ہے تو ہٹا دو ، ملک ایسے چلتا رہا تو سب برباد ہو جاوٴ گے ۔یہاں پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرپٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ بہت ہنگامہ آرائی ہوچکی ہے لیکن عوام کی آواز سنائی نہیں دے رہی ۔ وزیراعظم ملک کو بہتری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ۔ انکے پاس بہتری کیلئے بہت اچھا خاکہ ہے ۔ وزیر اعظم کے ذہن میں تین نکات ہیں ۔ پہلے نمبر پر اس ملک کے بے روزگاروں کو روزگار فراہم کرنا‘ دوسرے نمبر پر عوام پر مہنگائی کے بوجھ کو ختم کرنااور تیسرا نمبر غریب لوگ جو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں انکو کیسے آگے لایا جائے۔ وزیراعظم کا گمان اور خواب میں نے پیش کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو کئی سو سال گزر گئے۔ پوری امہ دکھ میں مبتلا ہے ۔ کبھی کسی نے خارجیوں کا سوچا ہے ۔ خوارج ہمارے لئے بھی ہیں ۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کپتان نے کہا فوج کو نیوٹرل ہونا چاہئے‘ چیلوں نے کہا بالکل بالکل ایسا ہی ہونا چاہیے ۔ کپتان نے کہا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے ۔ چیلوں نے کہاجانور ہوتا ہے ۔ کپتان نے کہا آپ سالار تو باپ ہے ۔ چیلوں نے کہا بالکل باپ ہوتا ہے ۔ کپتان نے کہا باپ میر جعفر میر صادق ہے ۔ چیلوں نے کہا کہ ہاں میر جعفر ہے میر صادق ہے ۔
کپتان نے کہا امریکہ سازش کررہا ہے ۔ چیلوں نے کہا بالکل ٹھیک کہتا ہے کپتان۔ پھر کپتان نے کہا کہ امریکا سازش کررہا ہے، فوج ہمیں بچائے اور سائفر بھی لہرایا، لوگوں نے بھی کہا کہ امریکا تو ہمارے ملک کے خلاف ہے، اس نے ہماری آئین اور ملک کو پامال کیا ہے، فوج ہمیں بچائے۔ کپتان تضادات کو مجموعہ ہے ۔ کیا یہ بہروپیے ہیں یا پاگل ہیں؟ جب مقصد ملک کو برباد کرنا ہو تباہی پھیلانی ہو تو پھر ان کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے ۔ انہو ں نے کہا مت بھولیں پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ کپتان ہے تو پاکستان ہے ۔ ایسے الفاظ استعمال نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا مہنگائی کی شرح 48فیصد تھی ہم مہنگائی کی شرح دو فیصد پر لائے ۔ مہنگائی کی شرح روز بروز کم ہورہی ہے ۔آپ نے چار ہزار ملین ڈالر سو سیٹھوں میں بانٹ دیا ۔ سڑک کا جادو ہے جہاں سے گزرتی ہے وہاں ترقی لے جاتی ہے ْڈیم جہاں بنتے ہیں وہاں روزگار ملتا ہے ۔ بجلی کا بحران ہے ۔ 86فیصد گھروں کے بل گزشتہ سال کی بجلی استعمال کے مطابق فکس کر دئیے ۔ غریب کو سہولت دینگے ۔ بوجھ بھی ختم کرینگے۔ سہولت بھی دینگے ۔ انہوں نے کہا ہم دہشتگردی کو ختم کرنے کیلئے آپریشن کرنے کا کہتے ہیں ۔ جواب ملتا ہے کہ آپریشن نہیں کرنے دینگے۔ انہوں نے کہا ہم کروڑ، لاکھ نوکریوں کا وعدہ نہیں کررہے ۔ جہاں جہاں ترقی ہوگی وہاں روزگار خوبخود ملے گا۔ داسو میں ایک ارب ڈالر لگے گا تو وہاں کے لوگ روزگار ملے گا ۔ دیامیر بھاشا ڈیم پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے تو وہاں کے لوگوں کو روزگار مل رہا ہے۔ انہوں نے واضح بیان دیا کہ ملک تباہ کردیں گے،اور وہ کررہے ہیں، مئی کو شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی ، ہم کہتے ہیں دہشتگردی کو ختم کریں اور آپ کہتے ہیں ہم آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں آئیں مل کر بات کرتے ہیں آپ کہتے ہیں ملک گیر پہیہ جام کریں گے، بات کرو لیکن برباد مت کرو، سلجھاوٴ ملک کو الجھاوٴ نہیں، ہم نے کہا آوٴ حکومت بنائیں آپ کہتے ہیں ہم نہیں بنائیں گے۔ انہوں نے کہا آ ج آپ اْودھم مچارہے وہ آپ اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ ظلم کررہے ہیں ، ہمیں ہٹانا ہے ہٹادیں ،ملک ایسے ہی چلتا رہا تو برباد ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پھر کپتان نے کہا کہ فوج ہمیں برباد کررہی ہے، امریکا ہمیں بچائے، لوگوں نے کہا کہ دیکھا امریکا نے قرارداد پاس کی، پھر کپتان نے کہا اس اسٹیبلشمنٹ کا قبر تک پیچھا کریں گے، لوگوں نے کہا نہیں چھوڑیں گے، 9 مئی کردیں گے، آگ لگادیں گے اور ابھی وہ مان بھی گئے کہ میں نے 9 مئی کا میں نے کہا تھا، اب کپتان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کریں گے، مسلم لیگ (ن) ہماری لڑائی کروارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں 48 فیصد سے 2 فیصد پر لائے لیکن انہوں نے دھرنا دیا، مہنگائی کی شرح میں آہستہ آہستہ کمی آرہی ہے، ہم افراد زر کی شرح 38 فیصد سے 12 فیصد پر لے آئے، لیکن آپ نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا، ہم نے اس بجٹ غریبوں کے لیے 600 ارب روپے مختص کیے، آپ نے صرف 4 بلین ڈالر صرف 100 سرمایہ داروں اور سیٹھوں کو دے دیے۔
Comments are closed.