پنجاب بار کونسل کا کورٹ فیسوں میں اضافے کیخلاف جمعہ کوپنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج کا اعلان

لاہور(آن لائن) پنجاب بار کونسل نے فنانس ایکٹ میں کورٹ فیسوں میں اضافے کو مسترد اورآئندہ جمعہ کے روز پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف پہلے ہی غریب کی پہنچ سے دور تھا اور پنجاب حکومت کے اس اقدام سے اس کے لئے انصاف کے تمام دروازے بند کر دئیے گئے ہیں، سیاسی جماعتوں کی مخالفت کی آڑ پنجاب حکومت نے پولیس کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ عدالتی احکامات کو بھی کسی خاطر میں نہیں لاتی ۔ پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران بشیر مغل نے اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے کورٹ فیس ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے 2 روپے والی کورٹ فیس 500 روپے مقرر کرنا ظالمانہ فعل اور غریب سائلین پر مزید مہنگائی کا بوجھ ڈالنا جو کہ پہلے ہی بڑی مشکل سے حصول انصاف کے لیے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں ۔

حکومت نے کورٹ فیس ایکٹ میں ظالمانہ ترامیم کر کے اور ٹیکس لگا کر انصاف صرف امیروں تک محدود کر دیاہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس شیڈول کو فی الفور مکمل طور پر واپس لیا جائے ، پنجاب حکومت کے اس اقدام کے خلاف جمعہ کے روز پنجاب اسمبلی کے پنجاب بار کونسل کے تمام ممبران دھرنا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سیاسی جماعتوں کی مخالفت کی آڑ میں پولیس کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے اور پولیس اس آڑ میں قبضہ گروپوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، عدالتی احکامات کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے ، ڈی آئی جی اور ایس پی عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کی بجائے اپنے فیصلے صادر کر رہے ہیں، صوبہ پنجاب کو عملاًپولیس اسٹیٹ بنا دیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عدالتوں کے متنازعہ نوٹیفکیشن کے حوالے سے بھی پیشرفت کریں اور اس نوٹیفکیشن کو واپس لیا جائے۔

Comments are closed.