حماس رہنما پر اسرائیلی حملہ انتہائی قابل مذمت ، ایران جلد ہنیہ کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے ، پاکستان
اسلام آباد (آن لائن) دفتر خارجہ نے حماس رہنما پر اسرائیلی حملے اور ان کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کرکے تفصیلات منظر عام پر لانے او ر قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے منتظر ہیں ۔ مشرق وسطی صورتحال پر تشویش ہے ۔ ٹی ٹی پی افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لئے استعمال کر رہی ہے ۔ افغان حکام سے کالعدم تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطا لبہ کیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے دولت مشترکہ ممالک کی سیکرٹری جنرل پیٹریشیا سکاٹلینڈ نے پاکستان اورنائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے تہران ایران کا دورہ کیا۔ اور ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو تہنیتی پیغامات بھی پیش کئے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکریٹری خارجہ نے لاوس آسیان کا دورہ کیا اور آسیان اجلاس میں شرکت کی۔ سری لنکا کے سیکرٹری خارجہ کی قیادت میں سری لنکن وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ ترجمان نے کہا پاکستان اسرائیل کی علاقے میں جارحیت اور لبنان پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ یہ اقوام عالمی قونین، اقوام متحدہ اور لبنان کی سالمیت و خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اسرائیل کے علاقے میں خطرناک جارحیت سے خطے کا امن خطرے میں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی ایک علاقائی خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔ٹی ٹی پی کے پاکستان میں حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹی ٹی پی افغانستان کی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ افغان عبوری حکومت سے ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان نے کہا غزہ میں نسل کشی جاری ہے۔ غزہ اور فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی افواج جنگی و انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ ترجمان م نے کہا ہمارے سیاسی بیانات علاقائی صورتحال کے حوالے سے جاری ہوتے ہیں۔ گذشتہ روز ایران میں اسماعیل ہانیہ کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوے ترجمان نے کہا پاکستان فلسطینی عوام کو بھی تعزیت پیش کرتا ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ اسرائیل کو غزہ و مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس کے جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔ ترجمان نے کہا پاکستان خطے میں ہونے والی تبدیلیوں پر شدید تحفظات رکھتا ہے ہم نے او آئی سی و دیگر فورم پر وقفے وقفے سے ان تحفظات کااظہار کیا ہے۔ ترجمان نے سلامتی کونسل سے اس حوالے سے عالمی قوانین کی بالا دستی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ۔ ترجمان نے کہا غیر ملکی سفارت کار, بزنس مین ورکر اور سیاح پاکستان کی مہمان ہیں۔ ان کی سیکیورٹی و تحفظ پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف محکمے کام کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا اسماعیل ہانیہ کے قتل پر پاکستان ایرانی انتظامیہ سے تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے۔ امید ہے ایران اس کی تحقیقات کر کے تفصیلات جاری کرے گا۔ ترجمان نے کہا بڑی تعداد میں پاکستانی شہری مشرق وسطی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ زیادہ تر پاکستانی قانون کا احترام کرنے والے ہیں۔ میزبان حکومتیں اپنے معاشروں کی ترقی میں پاکستانیوں کے کردار کو سراہتی ہیں۔ ترجمان نے کہا بھارتی میڈیا اور پبلک آفیشلز کو عجیب فوبیا ہے ۔ .وہ ہر منفی چیز و واقعہ پر پاکستان کو مورد الزام ٹہراتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے ناسازی طبع کے باعث ایک ٹیم کو نامزد کیا کہ وہ ایرانی صدر کی حلف برداری میں شرکت کرے۔ اس ٹیم نے نا ئب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی قیادت میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
ترجمان نے کہا پاکستان 5 اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی تبدیلیوں پر بارہا آواز اٹھاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے متعدد ڈوزئرز بھی دئے گئے۔ پارا چنار پر ایرانی بیان کے حوالے سے ترجمان نے ردعمل دیتے ہوے کہا کسی بھی انسان کا قتل ناقابل برداشت ہے ۔ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے ذمہ دار ہے۔ پاراچنار پر ایرانی بیان غیر ضروری ہے۔ اس بیان میں پارا چنار کی مکمل صورتحال کا احاطہ موجود نہیں ہے۔ وزارت داخلہ اس حوالے سے کام کر رہی ہے۔ شیڈیول میں 4 میں افراد کو شامل کرنا ایک قانونی عمل ہے ۔ اس کے حوالے سے کئی مرحلے موجود ہیں ۔ ترجمان نے کہا متحدہ عرب امارات کے غیر ملکیوں کے حوالے سے اپنے قوانین موجود ہیں۔ جب کوئی بھی کیس قانونی طور پر وزارت خارجہ کے پاس بھیجا جاے گا تو وزارت خارجہ اس کو متعلقہ حکومتوں سے شئیر کرے گا۔ ترجمان نے کہا فرینکفرٹ, جرمنی کے واقعہ پر جرمن حکومت سے رابطے میں ہیں۔ جرمن حکومت کو کہا ہے کہ اس حوالے سے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جا ئے ۔ ترجمان نے کہا وزارت خارجہ کے مالی امور کے حوالے سے دفتر خارجہ وزارت خارجہ سے رابطہ میں ہے۔ ترجمان نے کہا پاک افغان سرحد پر لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے ون ڈاکومینٹ رجیم انتہائی ضروری ہے۔ ترکیہ وزیر خارجہ کا دورہ ایک ٹرانزٹ وزٹ تھا۔ جب وہ لاوس جا رہے تھے تو انہوں نے پاکستان میں چند گھنٹے کا سٹاپ اوور کیا۔ ترجمان نے کہا پاکستان اور روس کے درمیان متعدد منصوبوں پر تعاون موجود ہے۔
Comments are closed.