حکومت زبانی مذاکرات سے ہمیں ٹالنا چاہتی ہے،حافظ نعیم الرحمن
راولپنڈی (آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت زبانی مذاکرات سے ہمیں ٹالنا چاہتی ہے لیکن ہم کسی وعدہ فردا پر یقین کر کے واپس نہیں جائیں گے ہم عوام کا جائز حق لینے آئے ہیں کوئی بھیک مانگنے نہیں آئے اگر حکومت یہ حق خود دے دے تو چھیننے کی نوبت نہیں آئے گی حکومت کی جانب سے مثبت اور سنجیدہ ردعمل سامنے نہ آنے پر بہت جلد دھرنے کی نوعیت اور ہئیت تبدیل کردیں گے قوم کے خون پسینے کی کمائی آئی پی پیز لوٹ رہی ہیں ہم کب تک ان کا پیٹ پالتے رہیں گے لیاقت باغ میں جاری دھرنے کے 14 ویں معمول کی روز پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آج دھرنے کو دو ہفتے مکمل ہو گئے لیکن دھرنے کے شرکا پر عزم ہیں کیونکہ ہمارے مطالبات پاکستان کے ہر فرد کے مطالبات ہیں ہمارے مطالبات جائز بھی ہیں اور قابل عمل بھی ہیں اور ہماری خواہش ہے پاکستان کے عوام کو ریلیف ملے کیونکہ بجلی کا بل ادا کرنا لوگوں کیلئے نا ممکن ہو چکا ہے ملک کی صنعتیں بند ہو رہی ہیں مزدور بے روزگار ہو رہا ہے آئی پی پیز کو لگام دینا ہوگا انہوں نے کہا کہ 1994سے ہر حکومت نے آئی پی پیز لگائیں اور اس سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے ہم کیوں ہزاروں روپے انکو جمع کروائیں انہوں نے کہا کہ 1400 ارب کا بھاشہ ڈیم کا منصوبہ ہے اس سے کم قیمت میں ڈیم بن جانا تھا لیکن ہماری خون پسینے کی کمائی آئی پی پیز لوٹ رہی ہے انہوں نے کہا کہ تنخواہ پر ٹیکس کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا ہر چیز پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے مڈل کلاس لوگ کہاں جائیں گے یہ چاہتے ہیں لوگ ڈاکو بن جائیں ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ نوجوانوں کیلئے راستے بنائے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا پر امن دھرنا ہے ہم نے حالات کو کنٹرول میں رکھا ہے کیونکہ پاکستان کسی بھی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا
حکومت اور اداروں میں خلا بڑھتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار کے ٹیرف کو کم کرو جاگیر دار کو کیوں پاکستان میں استثنی حاصل ہے جماعت اسلامی نے ہمیشہ مزدوروں مجبوروں اور غریبوں کی بات کی ہے انہوں نے کہا کہ ایکسورٹر سے ٹیکس لیں جیسے پہلے سے چلا آرہا ہے ایف بی آر کے 22 سے 25 ہزار لوگ ہیں جبکہ ایف بی آر میں 1299 ارب کی کرپشن سامنے آئی جو ٹیکس دے رہے ہیں انکو ٹیکس دے کر چھوڑ دیا گیا انہوں نے کہا کہ یہ جال پورے پاکستان کو برباد کر رہا ہے ہر محکمے میں کرپشن ہو رہی ہے ہم کب تک آئی پی پیز کے پیٹ پالتے رہیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مثبت اور سنجیدہ ردعمل سامنے نہ آنے پر بہت جلد دھرنے کی نوعیت اور ہئیت تبدیل کردیں گے آج یہ دھرنا بڑے جلسہ عام کی صورت میں ہوگا انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی آئین و قانون کے ماورا کوئی کام نہیں کیا اور آئیندہ بھی ایسا نہیں چاہتے ہمارے 14 روزہ احتجاجی دھرنے میں ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا انہوں نے کہا کہ اس دھرنے سے عوام کو کوئی تکلیف نہیں ویسے بھی یہ دھرنا چھوٹی تکلیف ہے حکومت نے عوام کو بڑی بڑی تکالیف میں مبتلا کر رکھا ہے تنخواہ دار طبقہ جو پہلے ہی 368 ارب روپے کے ٹیکس دے رہا ہے وہ مزید ٹیکس کہاں سے دے ان حالات میں سفید پوش طبقے سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے۔
Comments are closed.