انتشار کے خاتمے کے لئے علمائے کرام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، وزیراعظم

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کی ضرورت اس وقت ہے پہلے کبھی نہیں تھی ۔ حکومت اور آئینی ادارو ں کے درمیان پہلی بار مثالی تعاون قائم ہے ۔ ملک کو مسائل اور مشکلات سے نکالنے کے لئے حکومت اور آرمی چیف کے درمیان بھی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ملک میں تقسیم در تقسیم اور انتشار کے خاتمے کے لئے علمائے کرام پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ‘ غریب آدمی مہنگائی میں پس گیا ہے لیکن غریب کو مہنگائی اور مہنگی بجلی سے فوری آزاد نہیں کرسکتے لیکن مہنگائی میں کمی کیلئے جلد صوبے اعلان کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی علما اور مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سپہ سالار کی کانفرنس سے گفتگو لہو کو گرمانے دینے والی تھی وہ خود بھی حافظ قر آن ہیں ۔ انکی باتیں پرجوش تھیں انہوں نے خود کو علمائے کرام کے جوتوں میں بیٹھنے والا ایک ادنی شخص قرار دیتے ہوے کہا آپ لوگوں کو قرآن و حدیث پر عبور حاصل ہے ۔ اس لئے ملک کی بہتری میں آپ کا کردار انتہائی اہم ہو سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چوددہ اگست کو سترتواں یوم آزادی ملی جوش وجذبے سے منایا جائے گا ۔ پاکستان بنانے میں ہمارے آباو اجداد ، علما ، بزرگوں ، نو جوانوں نے بابائے قوم قائد اعظم کی قیادت میں اپنا لہو پیش کر کے اہم کردار اد کیا ۔ تب پاکستان معرض وجود میں آیا ۔ تاہم بد قسمتی سے ا ٓ ج تک پاکستان کو وہ مقام دنیا میں نہ دلا سکے جسکا خواب معماروں نے دیکھا تھا ۔ انہوں نے کہا پاکستان کو آج قومی یکجہتی کی جس قدر ضرورت ہے اس سے پہلے کھبی نہ تھی ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے سیاسی حکومت اور آئینی اداروں کے درمیان اتنا مثالی تعاون موجود ہے جو میں نے اپنے چالیس سالہ سیاسی کئرئیر میں نہیں دیکھا ۔ ہمارے سپہ سالار پاکستان کے بہترین مفاد میں حکومت کے ساتھ اشتراک جاری رکھے ہوے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سنگین معاشی حالات کا ملک کو سامنا ہے ۔ آج پاکستان کے جو سماجی اومعاشی چیلنجز ہیں انکا ہم سب نے مل کر حل نکالنا ہے ۔ ستتر سال کی اجتماعی کامیابیوں کو ہمیں رول مادل بنانا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج بھی ہم اگر خو د کو آج بھی قران وحدیث کے تابع کر لیں تو پاکستان آج بھی عظیم قوموں کے درمیان کھڑا ہو سکتا ہے ۔ ہمیں اسلامی تاریخ سے سبق لینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستانی ہونے کا دعوی کے لبادے میں روپوش دشمنوں کو پہچان کر ہمیں انکا مقابلہ کرنا ہے ۔ دوہزار اٹھارہ کے بعد عوامی خدمت کی سیاست ختم ہو گئی سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ کر کے تقسیم در تقسیم اور نفرت اور انتشار پھیلایا جا رہا ہے ۔ ہمارے جوانوں نے ملک کیلئے عظیم قربانیاں دیں اپنے بچوں کو اس ملک کی خاظر یتیم کیا آج اسی پاک فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے ۔ نو مئی جیسا واقعہ ملک کی تاریخ کا دلخراش ترین واقعہ تھا ۔ خوارج نے اسلامی تاریخ میں تباہ کن کردار ادا کیا ۔

انہوں نے کہا ملک کئے اندر تقسیم در تقسیم ا اور منافقت و نفرت کی سیاست کے خاتمے کے لئے علمائے کرام بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں ٓاپ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قرض ایسا چنگل ہے جس سے آزادی حاصل کرنا آسان نہیں لیکن جب قومیں یہ عزم کر لیں کہ ہم مے ملک کو اس چنگل سے آزاد کروانا ہے تو وہ روکھی سوکھی کھا کر بھی خود کو ایسے مسائل سے نکال سکتی ہیں ۔ علما سے لائق طبقہ کوئی نہیں جو ملک میں امن لے کر آئے ہم ان سے بہترین کردار کی توقع کرتے ہیں ۔ غریب آدمی مہنگائی کی چکی مین پس گیا ہے ہمیں اس کا احساس ہے۔ ماضی میں نہیں جاوں گا میری کوشش ہے ملک کو مشکل سے نکالوں ۔ دو سو یونٹ والے بجلی صارفین کے لئے پچاس ارب کی سبسڈی دی ۔ ملک کے مسائل کے حل کے لئے بلاول بھٹو سے بھی مشاورت جاری ہے ۔ بہت جلد صوبے غریب عوام کو ریلیف دینے کاا علان کریں گے ۔ اس اس سلسلے میں آرمی چیف اور حکومت میں بھی مشاورت جاری ہے۔ خدا کرے آئی ایم ایف کا یہ آخری پروگرام ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو دولخت کرنے والوں کا انجام آج دنیا دیکھ رہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ،گالیوں کا طوفان ہے، ملک میں تقسیم در تقسیم کی جارہی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ اس ملک کے لیے قائداعظم کی قیادت میں تحریک چلائی گئی، 14 اگست کو 77 واں یوم آزادی منارہیہیں، لاکھوں ،کروڑوں لوگوں نے جان کی قربانی دی، اس ملک کیلیے ہمارے آبااجداد نے بہت قربانیاں دیں، ہمیں آج جتنا متحد ہونیکی ضرورت ہے، شاید پہلے نہ تھی۔انہوں نے کہا کہ فتنہ خوارج نے تاریخ میں تباہ کن کردار ادا، ہمیں اسلامی تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہے اور وہ لوگ جو پاکستانی ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور اس لبادے میں دشمنی کر رہے ہیں،

ہمیں انہیں پہچاننا ہے، ان ہمیں سامنا ہے، ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چاہے وہ ہمارا سوشل میڈیا، آج صورتحال یہ ہے کہ 2018 کے بعد عوامی خدمت کی سیاست کی کوئی پذیرائی نہیں ہے، سوشل میڈیا پر جھوٹ بولا جاتا ہے، حقائق کو مسخ کیا جاتا ہے، گالی گلوچ کا بازار گرم ہے، قربانیوں دینے والے شہدا کی سوشل میڈیا پر بحرمتی کی جا رہی ہے، 9 مئی کا واقعہ آپ کے سامنے ہے، اس سے دلخراش واقعہ تاریخ میں نہیں ہوا۔وزیر اعظم نے کہا کہ 1971 کے سانحے میں ملک دولخت ہوگیا، آج وہاں پر ان کرداروں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہا ہے، مجھے اس پر کچھ نہیں کہنا لیکن وہ کہتے ہیں کہ جو بیجو گے، وہی کاٹو گے، آج ہمارے ملک میں بھی منافرت اور تقسیم در تقسیم کی سیاست ہو رہی ہے، اس کے خاتمے کے لیے علما، مشائخ سے زیادہ معتبر آواز نہیں ہوسکتی۔شہباز شریف نے کہا کہ میں جس ملک میں بھی گیا، میں نے کہا کہ قرض لینے کیلیے نہیں آیا، 77 سال سے قرض لیتے آئے ہیں، اس چنگل سے آزادی حاصل کرنا آسان نہیں، لیکن آج فیصلہ کرلیں تو پھر کوئی بڑی سے بڑی رکاوٹ آڑے نہیں آسکتی۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج یہ سیاسی حکومت جس لائق بھی ہے، ہماری دن رات، بھرپور کوشش ہے کہ ملک کی معاشی مشکلات سے جان چھڑائی جا سکے، خدا کرے کہ آئندہ کا آئی ایم ایف پروگرام آخری ثابت ہو لیکن عام آدمی، غریب آدمی پچھلے کئی سال میں مہنگائی میں پس گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ترقیاتی کاموں سے کاٹ کر 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے 50 ارب روپے رکھے، لیکن 200 سے 500 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی بہت بڑا بوجھ ہے۔وزیراعظم اس سلسلے میں پوری اتحادی حکومت اور سپہ سالار کی مشاورت ہو رہی ہے کہ یہ سب کافی نہیں ہے

، اس کے لیے جامع منصوبہ بنایا جا رہا ہے، کل بھی صدر مملکت سے اس معاملے پر بات ہوئی، سپہ سالار خود اس سلسلے میں ہونے والی مشاورت میں شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آج اور کل میں یہ فرق ہے کہ اب مکمل مشاورت ہے تاکہ ملک آگے چلے، پوری امید ہے کہ اس معاملے میں غریب آدمی کو مکمل طور پر مہنگائی، بجلی کی قیمت کے بوجھ سے تو شاید ابھی فی الفور آزاد نہ کیا جاسکے لیکن اس میں مزید کمی لانے کے لیے دن رات کاوشیں ہو رہی ہیں اور آپ دیکھیں گے بہت جلد صوبے اس بارے میں اپنا اعلان کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام ہونے جا رہا ہے، لیکن یہ کوئی خوشی کی بات نہیں، ایک مجبوری ہے کہ ملک کو معاشی طور پر استحکام دلوانا ہے، یہ استحکام اس وقت آئے گا جب ہم 25 عوام کے پیداواری روزگار کا انتظام کریں، وسائل کو بچائیں، ایف بی آر اور پاور سیکٹر میں میری دن رات میٹنگز ہوتی ہیں۔

Comments are closed.