نوجوان اغواء کیس :عدالت کا میرٹ پر تحقیقات کرنے کا حکم

راولپنڈی (آن لائن) ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان نے نوجوان کے اغواء کے خلاف دائر پٹیشن پر مقدمہ کے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ میرٹ پر کیس کی تحقیقات کریں اور اس حوالے سے کسی جانب سے کسی قسم کا دباوٴ قبول نہ کیا جائے عدالت نے پٹیشن نمٹاتے ہوئے درخواست گزار کو بھی ہدائیت کی کہ پولیس کی تحقیقات سے مطمئن نہ ہونے کی صورت تفتیش تبدیل کروانے کے لئے بھی درخواست دے سکتا ہے عدالت نے یہ احکامات مغوی کے والد کی جانب سے دائر پٹیشن پر جاری کئے جواں سال مغوی شاہد اقبال کے والد غلام سرور سکنہ چکوال نے ڈی پی او میانوالی، ایس ایچ او تھانہ چاپری میانوالی اور مقدمہ کے تفتیشی افسر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ 27 جون کو اس کا بیٹا گھر سے اڑھائی لاکھ روپے لے کر دوستوں کے ساتھ آئی فون لینے اسلام آباد گیا لیکن شام تک گھر واپس نہ آیا جس کے بعد اس کا موبائل بھی بند ہوگیا قبل ازیں بیٹے نے فون پر بتایا تھا کہ وہ اپنے دوست مخدوم مرتضیٰ حسین اس کے دوست خان بابا کے علاوہ کامران، سلیمان اور ان کے دو دوستوں کے ہمراہ جناح بیراج اور چاپری ڈیم کی سیر کے لئے میانوالی آیا ہے لیکن موبائل بند ہونے پر جب درخواست گزار بیٹے کی تلاش کے لئے چھاپری کے علاقے میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ خیبرپختونخوا کے بارڈر کا علاقہ ہے اور اس کے ساتھ علاقہ غیر شروع ہوتا ہے درخواست گزار کو شبہ ہے کہ اس کے بیٹے کو اس کے دوستوں نے اغوا کیا ہے یاد رہے کہ نوجوان کے اغواء کے بعد تھانہ چاپری پولیس نے 2 جولائی (گزشتہ ماہ) مغوی کے والد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365 کے تحت اغوا کا مقدمہ نمبر 42 درج کیا تھا دریں اثنا مغوی کے والد نے احاطہ عدالت میں بتایا کہ پولیس نے وقوعہ کے پانچویں روز اغوا کا مقدمہ تو درج کرلیا لیکن آج لگ بھگ ڈیڑھ ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو نامزد ملزمان میں سے کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی بیٹے کو بازیاب کروایا جاسکا جس سے پورا گھرانہ انتہائی اذیت میں مبتلا ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارا بیٹا کس حال میں ہے تاہم قوی امید ہے کہ عدالت ہمیں انصاف دلوانے گی۔

Comments are closed.