اسلام آباد(آن لائن ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس وقت جو بحران ہے ایک ادارے کے درمیان ایک فاصلہ نظر آرہا ہے اور یہ اس لیے بن رہا ہے کہ ایک ادارہ پارلیمان میں بار بار مداخلت کرتا ہے ،جوڈیشری کی تاریخ پورے ملک کے سامنے ہے ہماری جوڈیشری نے بھی ورلڈ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جوڈیشری اتنی قابل ہے وہ نہ صرف عدالت چلاتے ہیں وہ تو ڈیم بھی بنا سکتے ہیں انہوں نے مانگا بھی نہیں،آئین میں گنجائش بھی نہیں ہم ایسے سیاسی فیصلہ دیتے ہیں سیٹیں ایسی دی گئیں جیسی کوئی ٹافی ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں امام مسجد نبوی کو خوش آمدید کہتا ہوں ارشد ندیم کو مبارکباد دینا چاہوں گا پورا قوم اس کی جیت کو سراہتی ہے اور فخر کرتے ہیں اس نے پوری محنت کے نیتجے میں ناممکن کو ممکن کردیاہم تو فٹ بال کا ورلڈ کپ جیت کر لاسکتے ہیں
، اگر ہم ان کا تھوڑا سا ساتھ دیں ہر صوبہ کا انڈومنٹ فنڈ بنایا جائے، اس میں فنڈز رکھیں اس شہر میں بڑے بڑے ادارے عمارتیں ہیں اس شہر میں سب سے طاقتور بیوروکریسی کا بٹالین موجود ہے جس کام کے لئے ادھر آتے ہیں ہو پورا نہیں کرتے ہیں یہاں سازشیں شروع کر دیتے ہیں آج کل ملک میں نفرت کی سیاست عروج پر ہیجس قسم کی سیاست میں تقسیم آج موجود ہے شاید تاریخ میں نہیں دیکھا لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال مشکل ہوتی جارہی ہیدن رات ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں احتجاج کوٹہ پر ہواحسینہ واجد کو عہدہ چھوڑنا پڑا ہمیں اپنے اصل مسائل کی طرف ترجیح دینا چاہئیاس وقت ادارے کے درمیاں ایک فاصلہ نظر آرہا ہیایک ادارہ اس ادارہ میں بار بار مداخلت کرتا ہیجوڈیشری کی تاریخ پورے ملک کے سامنے ہیہماری جوڈیشری نے بھی ورلڈ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جوڈیشری اتنی قابل ہے وہ نہ صرف عدالت چلاتے ہیں وہ تو ڈیم بھی بنا سکتے ہیں جب ڈیم بنانے کی بات آتی تو آئین اور قانون پتہ نہیں کہاں چلا جاتا ہییہ بحران جوڈیشری کے ذریعے ہے،جوڈیشری کے لئے ہیوہ مہنگائی کا مقابلہ بھی کرسکتے ہیں، سموسے اور ٹماٹر کی قیمت بھی ادا کر سکتے ہیں پوری دنیا میں کوئی جوڈیشری ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہمیں تین نسلوں کی جدوجہد لڑنی پڑی ایسے ہیں کہ کچھ ا?پ کے ہاتھ میں ہیں کچھ ا?پ کے ہاتھ میں نہیں، اس وقت جو بحران ہے ادارے کے درمیان ایک فاصلہ نظر آرہا ہے اور یہ اس لیے بن رہا ہے کہ ایک ادارہ اس ادارے میں بار بار مداخلت کرتا ہے، عدلیہ کی تاریخ تو پورے ملک کے سامنے ہے، ارشد ندیم کی طرح ہماری عدلیہ نے بھی ورلڈ ریکارڈز توڑے ہیں، عدلیہ اتنی قابل ہے کہ وہ نا صرف عدالت چلاتے ہیں بلکہ وہ تو ڈیم بھی بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدالتیں اتنی کامیاب ہیں کہ وہ انصاف بھی دلواتی ہیں، ڈیم بھی بناتی ہیں اور مہنگائی کا مقابلہ بھی کرتی ہے، وہ تو سموسے اور ٹماٹر کی قیمت بھی طر کرسکتے ہیں، عدلیہ ہماری اتنی زبردست ہے، پوری دنیا میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا، ہمارے پاس اتنے بڑے سانحات ہوئے ہیں، بینظیر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت، پاکستانیوں کی اپنی شکایتیں انصاف کی منتظر ہیں،
ہمیں 3 دہائی تک انصاف کا انتظار کرنا پڑا پر اخر عدلیہ نے ذوالفقار علی بھٹو کو اس حد تک انصاف دیا کہ ہاں ان کو صحیح انصاف نہیں دیا گیا اور ساتھ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے ہم تاریخ کو درست کرنے کے لیے کوئی واضح عمل نہیں اٹھاسکتے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جو انہوں نے مانگا بھی نہیں،آئین میں گنجائش بھی نہیں ہم ایسے سیاسی فیصلہ دیتے ہیں سیٹیں ایسی دی گئیں جیسی کوئی ٹافی ہو میں تمام سیاسی جماعتوں کو کہنا چاہوں گا جب ملک کے ایسے ایشوز پر ایک دوسرے سے بات کی جائے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری کچھ روایات ہیں،معزز مہمان اس پارلیمنٹ میں ہیں ان روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیں داخلی سیاسی معاملات کو اہمیت نہیں دینی چاہئے آج مہمان کی تشریف آوری بہتر تعلقات کو مزید تقویت دینے کا سبب بننے گا ہم سعودی عرب کو سب سے پہلا دوست سمجھتے ہیں میں کسی داخلی اور سیاسی معاملات پر گفتگو کرنے سے گریز کروں گاجو ماحول پیدا ہوا ،اپنے معزز مہمان سے معزرت کرتا ہوں ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ہم نے مل بیٹھ کر کمزوریوں کو دور کرنا ہے میں اپنے مہمانوں اور وفد کو خوش آمدید کہتا ہوں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا کہ بلاول بھٹو نے جو لمبی تمہید باندھی ہے اسے کوئی ہدایت آئی ہوگیہمارے مہمان آئے ہوئے ہیں، ہماری سیاست ہوتی رہے گی
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سعودی عرب کے سفیر اور امام مسجد نبوی کو خوش آمدید کہتا ہوں نیتن یاہو فلسطینوں کا قاتل ہییہ فیصلہ ہونا چاہئے کہ نیتن یاہو جنگی مجرم ہے ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں انہوں نے پاکستان میں قدم رکھا دل کی گہرائیوں سے امام مسجد نبوی کا شکریہ ادا کرتے ہیں حالیہ حج کے انتظامات کے حوالے سے سعودی سفیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ارشد ندیم نے گولڈ میڈل حاصل کیایہ پاکستان کے لئے خوشی کا موقع ہیبلاول کی تجویز سے متفق ہوں،ملک کے مسائل پر ہم تلخیوں کو زیادہ نہ کریں کہ مشورہ کرنے کے بھی قابل نہ رہیں
Comments are closed.