قادیانی دائرہ اسلام سے خارج‘ انہیں تبلیغ کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی ،مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد(آن لائن) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاہے کہ قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں انہیں قرآن پاک میں تحریک اوراپنی تبلیغ جاری رکھنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی ہے‘عالمی سطح پر کچھ قوتیں قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہی ہیں اور جب حکومت کچھ نہیں کرپاتی تو عدالتوں کے ذریعے فیصلے لئے جاتے ہیں۔ عالمی تحفظ مجلس ختم نبوت کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ آئین پاکستان میں قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اور اب بین الاقوامی سطح پر عالمی قوتیں ان کی پشت پناہی کررہی ہیں اور پاکستان پر ان قوتوں کا دبا بڑھتا ہے انہوں نے کہاکہ اگر حکومتیں کچھ نہیں کرپائیں تو پھر عدالتیں کود پڑتی ہیں اور بڑی باریکی سے ایسا مواد ڈال دیا جاتا ہے کہ اس فتنے کو دوبارہ سر اٹھانے کاموقع ملتا ہے

انہوں نے کہاکہ حال میں ایک سادہ مقدمہ جس میں اس قادیانی کی ضمانت کا مسئلہ تھا اور کیس صرف ضمانت کاتھا لیکن اس میں غیر ضروری طور پر مداخلت کی گئی ہے اور اس فیصلے میں قرآن پاک میں تحریف کرنے کا حق دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ اگر ادارے اس حد تک جاتے ہیں تو پھر امت مسلمہ کاموقف کھل کر سامنے آنا چاہیے مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ علما کرام پہلے ایک موقف پر آئیں اور دنیا کو اپنے موقف سے مطمئن کریں جس کے بعد تمام سیاسی قوتوں کو بھی شام کیا جائے گا ہم نے اپنا فرض پورا کرنا ہے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ضمانت کا فیصلہ لکھتے ہوئے قادیانیوں کو تبلیغ اور تحریف قرآن کی اجازت دے دی جب عدالت قادیانیوں کو خلاف آئین تبلیغ و تحریف کی اجازت دے گی تو مسلمان خاموش نہیں رہیں گے انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کا مسئلہ آئین و قانون کے رو سے طے ہوچکا ہے اس مسئلے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے انہوں نے کہاکہ قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاچکا ہے

عالمی قوتیں بھی ان کی پشت پناہی کررہی ہیں ریاست پاکستان پر ان کا دبا بڑھتا ہے اگر حکومتیں کچھ نہیں کر پاتی تو عدالتیں کھود پڑتی ہیں فیصلہ میں ایسا مواد ڈال دیا جاتا ہے جس سے ان طاقتوں کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع ملتا ہے انہوں نے کہاکہ فیصلے میں ایسی عبارت شامل کی گئی جس سے قادیانیوں کو لٹریچر شائع کرنے کا حق دیا گیاقرآن کریم میں تحریف کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے ،ان کو بطور فرقہ حق دیا کہ اگر یہ کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں اگر ادارے اس حد تک جاتے ہیں ہیں تو امت مسلمہ کا موقف واضح ہونا چاہییا ا نہوں نے کہاکہ ابتدائی طور پر آج علما کرام کو اس مسئلے پر بات کرنے کی دعوت دی گئی ہے اس کے بعد سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے کئے جائیں گے۔

Comments are closed.