القادر ٹرسٹ کیس،عمران خان اور بشری بی بی کے تاخیری حربے

اسلام آباد(آن لائن)دسمبر 2023 سے القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت میں ملزم عمران خان اور ملزمہ بشری بی بی کے وکلاء نے انتہائی غیر پیشہ وارانہ انداز میں تاخیری حربوں کے ذریعے عدالت کا وقت ضائع کیا۔

ڈیفنس کونسل کیس کے آئی او سے جرح سے انکار کر کے عدالت کو مزید زچ کر رہا ہے، حیران کن طور پر ڈیفنس کونسل عدالت میں تاخیر سے آتا ہے بلکہ کئی مرتبہ تو تب پہنچتا کارروائی ختم ہو چکی ہوتی۔

عدالتی ماحول خراب کر کے کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں بھی معمول ہیں۔

اس رویے سےاپنے ہی مقدمے کو خراب کرنے کی روش سمجھ سے بالاتر ہے۔ اوپر سے غیر متعلقہ وکلاء کا گروپ ملزمان کا دفاع کرنے کی بجائے صرف عمران خان سے سیاسی ملاقاتیں کرنے آتا ہے اور عدالتی وقت کا استعمال اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال ہو رہا۔ ان وکلاء رہنماؤں میں علی محمد خان، سردار لطیف کھوسہ، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر

گوہر، شائستہ کھوسہ، مشال وغیرہ کی کیس سے کوئی دلچسپی نہیں۔صاف نظر آ رہا یہ سب ایک حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا اور کارروائی آگے بڑھانے کی بجائے خود عمران خان کا سارا زور بھی میڈیا سے گفتگو پر رہتا ہے۔
اب عدالت نے اسی کمزور دفاع پر فیصلہ سنانا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ نتیجہ کیا نکلے گا۔

Comments are closed.