لاہور (آن لائن) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ فیض حمید کے معاملے پر سیاست سے گریز کا مشورہ دیتے ہوے کہا ہے کہ یہ ادارے کا اندرونی معاملہ ہے جبکہ ادارے کے اصول سخت ہیں۔جنرل باجوہ کی بدنیتی ہوتی تو ان کے پاس آپشنز تھے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کی باتیں سن چکا ہوں، جن تاریخوں کا حوالہ خواجہ آصف نے دیا ان دنوں جنرل باجوہ کا دورہ امریکا ہوا تھا، جنرل باجوہ نے دورہ امریکا میں صاف کہا تھا وہ ایکسٹینشن نہیں لے رہے۔انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ بہت سے افسران ہیں جن کا آگے آنا حق بنتا ہے
، جنرل باجوہ کی بدنیتی ہوتی تو ان کے پاس آپشنز تھے، میری جنرل باجوہ سے سیاسی بات چیت بہت کم ہوتی تھی، میں نے کبھی اپنی پوزیشن سے تجاوز نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے سنیارٹی کو ہر حال میں مدنظر رکھے ہوئے تھے، میرٹ پر پانچ لوگوں کے نام کی لسٹ آئی، انتہائی سینئر کو تعینات کیا گیا، خواجہ آصف کی ریکروٹ کرنے والی بات کا میرے پاس کوئی ثبوت نہیں۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ حکومت کرتی ہے، جنرل باجوہ کو توسیع دینے کیلئے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور سب نے ووٹ کیا، اس سیاسی ماحول کی انتہا 9 مئی پر جا کر ختم ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ فیض حمید کے معاملے پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے، یہ ادارے کا اندرونی معاملہ ہے۔
Comments are closed.