وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس :ڈیڑھ لاکھ آسامیاں ختم اور28 اداروں کو مکمل بند کرنے کی سفارش

اسلام آباد:حکومتی اخراجات میں کمی سے متعلق بنائی گئی رائٹ سائزنگ کمیٹی نے حکومت کو ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیاں ختم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے 5 وزارتوں میں 28 اداروں کو مکمل بند کرنے کی سفارش کر دی ۔ وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حکومتی ڈھانچے کا حجم اور اخراجات میں کمی کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا جس میں رائٹ سائزنگ کمیٹی کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی نے تجاویز پیش کر دیں،اجلاس میں رائٹ سائزنگ کمیٹی نے ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب خالی آسامیاں ختم کرنے کی سفارش کر دی،کمیٹی نے نان-کور سروسز اور عام نوعیت کے کاموں مثلاً صفائی ، جینیٹورئل سروسز، کو آوٴٹ سورس کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے

،اجلاس کو بتایا کہ آوٴٹ سورسنگ کے نتیجے گریڈ 1 سے 16 تک کی متعدد آسامیاں بتدریج ختم کی جا سکیں گی ،اس کے علاوہ رائٹ سائزنگ کمیٹی نے ہنگامی بنیادوں کنٹینجینسی پریس پر بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خزانہ دیگر وفاقی وزارتوں کے کیش بیلنسز کی نگرانی کرے،کمیٹی نے پانچ وفاقی وزارتوں میں اصلاحات کے حوالے سے سفارشات پیش کیں ،رائٹ سائزنگ کمیٹی نے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان اور وزارت سرحدی امور کو ضم کرنے کی تجویزدی جبکہ پانچ وزارتوں میں 28 اداروں کو مکمل بند کئے جانے کی سفارش کی ہے ،کمیٹی نے پانچ وزارتوں کے ذیلی اداروں کی نجکاری اور دوسری وزارتوں/وفاقی اکائیوں کو منتقل کئے جانے کی تجویزدی جبکہ پانچ وزارتوں میں 12 اداروں کو ضم کئے جانے کی بھی سفارش کی ،ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مجوزہ اصلاحات کی منظوری وفاقی کابینہ سے لئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ،وزیراعظم کی اصلاحات کے نفاذ کا جامع پلان بھی پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے، شہباز شریف نے کہا کہ حکومتی اخراجات میں کمی ہماری ترجیح ہے،حکومت کی ادارہ جاتی اصلاحات کا مقصد قومی خزانے پر بوجھ کو کم کرنا ہے،عوام کو فراہم کی جا رہی سروسز میں بہتری لائی جائے گی

،ایسے ادارے جنہوں نے پبلک سروس کے حوا لے سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھائی اور قومی خزانے پر بوجھ ہیں ان کو یا تو فوری ختم کیا جائے یا پھر ان کی فوری نجکاری کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ،وزیراعظم نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کرنے والے ادارے اسمال اینڈ میڈیم اینٹر پرائیزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی خود نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،وزیر اعظم نے سمیڈا کو وزیراعظم آفس کے تحت لانے کی بھی ہدایت کی ،اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین ، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک ،ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن جہانزیب خان ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

Comments are closed.