صدر مملکت کی عوام سے مون سون شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل
کراچی(آن لائن) آصف علی زرداری نے عوام سے مون سون شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر ماحول کے لیے اپنے محلوں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔ بلاول ہاوٴس کراچی میں سالانہ مون سون شجر کاری مہم کے تحت ”نیم“ کا پودا لگایا، 18 اگست پاکستان میں مون سون میں درخت لگانے کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اس موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر جنگلات کی شرح میں اضافے کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلی، عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے منفی اثرات کم کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے، نوجوان اور سول سوسائٹی جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے میں مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ نیم ماحول دوست درخت، بے شمار ماحولیاتی فوائد ہیں، نیم صاف ہوا، ٹھنڈی چھاوٴں کے علاوہ قدرتی طور پر مچھروں کو دور کرتا ہے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے وزیراعظم کی حیثیت سے پہلے دور حکومت میں بطور وزیر موسمیات خدمات انجام دی، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے پہلے دور میں درخت لگانے کی مہم کا آغاز کیا۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ شجرکاری مہم کے تحت ملک بھر میں نیم کے درخت لگائے گئے تھے، آج پاکستان میں بڑھتے درجہ حرارت کے پیش نظر درخت لگانے کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قوم بالخصوص نوجوان اور سول سوسائٹی مون سون شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، بہتر ماحول کے لیے اپنے محلوں اور گردونواح میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔انہوں نے کہا کہ مون سون درخت شجرکاری مہم جنگلات میں اضافے، ملک میں ہریالی بڑھانے، ماحول صحت مند اور صاف بنانے کا بہترین موقع ہے، جنگلات اور ہریالی میں اضافہ ہمارے ماحول کو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند اور محفوظ بنائے گا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے مینگرووز کی بحالی کا کامیاب اقدام کیا ہے، سندھ میں لاکھوں ایکڑ اراضی پر مینگرووز لگائے گئے ہیں، ہم مینگرووز کو مزید بڑھانے اور مزید درخت لگانے کے لیے پرعزم طریقے سے کام کر رہے ہیں۔صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ معاشرے کے تمام طبقات درجہ حرارت کو کم کرنے، ہریالی بڑھانے اور جنگلات بڑھانے کیلئے شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
Comments are closed.