بشریٰ بی بی ،جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں، سمیت 12 الگ الگ مقدمات میں ڈسچارج
راولپنڈی (آن لائن) انسداد دہشت گردی راولپنڈی کی خصوصی عدالت نمبر1 کے جج ملک اعجاز آصف نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی کے پرتشدد مظاہروں، اہم تنصیبات، نجی و سرکاری املاک کے گھیراوٴ جلاوٴ اور پولیس افسران و اہلکاروں پر حملوں کے 12 الگ الگ مقدمات میں ڈسچارج کرنے کا حکم دیا ہے عدالت نے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ کسی ہمراہی ملزم کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں 9 مئی کو 1 سال 3 ماہ ہوچکے ابھی تک پولیس کیوں خاموش رہی گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ملزمہ کے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر اور محمد فیصل ملک کے علاوہ 9 مئی کے مقدمات کی تحقیقات سے متعلق تشکیل کردہ پولیس ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی جبکہ پولیس نے بشریٰ بی بی کے جسمانی ریمانڈ کے لئے 12 مقدمات کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔ اس موقع پر پولیس نے عدالت سے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔
عدالت نے پراسکیوشن کے موقف اور شواہد کو بھی مسترد کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کو 12 مقدمات سے ڈسچارج کردیا ۔قبل ازیں بشریٰ بی بی کے وکلا نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی کو 9 مئی کے کسی مقدمہ میں تاحال گرفتار نہیں کیا گیا حالانکہ 9 مئی کے بعد لگ بھگ 14 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے اس دوران کسی مقدمہ میں درخواست گزار کا ریمانڈ بھی نہیں لیا گیا ۔یادرہے کہ 9 مئی کے تناظر میں راولپنڈی پولیس کی جانب سے تھانہ آر اے بازار کے مقدمہ نمبر 708 کے علاوہ تھانہ سٹی میں مقدمہ نمبر 563،تھانہ کینٹ میں مقدمہ نمبر 836، تھانہ ریس کورس میں 759، تھانہ نیو ٹاوٴن میں مقدمہ نمبر 2106، تھانہ صادق آباد کے مقدمہ نمبر 2076، تھانہ سول لائن میں مقدمہ نمبر 981، تھانہ وارث خان کے مقدمہ نمبر 914، تھانہ مورگاہ میں مقدمہ نمبر 397، تھانہ صدر واہ میں مقدمہ نمبر 744 اور تھانہ ٹیکسلا میں مقدمہ نمبر 940 درج کیا تھا فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کی میڈیا سے گفتگو میں کہا عدالت نے بشریٰ بی بی کو مختلف بیانات کی روشنی میں مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا حالانکہ ان بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی راولپنڈی پولیس نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی لیکن عدالت نے ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کو تمام مقدمات میں بری کیا ہے استغاثہ نے تین بیانات عدالت کے سامنے رکھے جس میں بتایا گیا
بشریٰ بی بی 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہے انہوں نے کہا کہ کافی دنوں کے بعد عدالت کا ایک خوش آئند فیصلہ آیا ہے عدالت نے استغاثہ کے شواہد کو مسترد کیا ہے دونوں طرف سے تفصیلی دلائل دئیے گئے عدالت نے کہا کسی ہمراہی ملزم کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں عدالت نے کہا نو مئی کو ایک سال تین ماہ ہوچکے ابھی تک کیوں خاموشی رہی انہوں نے کہا کہ سائفر کیس میں عمران خان بری ہوئے ابھی تک فیصلہ نہیں آیا سرکار کی طرف سے آج چار پراسیکیوٹرز پیش ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکار کا حق موجود ہے وہ آج کے فیصلے کو کہیں بھی چیلینج کرے میں نے کبھی کسی فیصلے پر تنقید نہیں میں پروفیشنل وکیل ہوں حالانکہ یہاں رات کے اندھیرے میں بھی فیصلے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے سے عمران خان کے مقدمات پر بھی فرق ضرور پڑے گا۔
Comments are closed.