جنرل فیض حمید ریٹائرمنٹ کے بعد ہیرو سے زیرو ہوگیا ، آرمی چیف اسکا اوپن ٹرائل کرائیں ، بانی پی ٹی آئی
راولپنڈی (آن لائن) بانی پی ٹی آئی نے آرمی چیف سے جنرل فیض حمید کے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا اور فیض کا معاملہ فوج کا ا ندرونی مسئلہ نہیں ہے ۔ اوپن ٹرائل سے دنیا کے سامنے حقائق آجائینگے۔اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جنرل فیض کو ریٹائرمنٹ کے بعد ہیرو سے زیرو قرار دیتے ہوے کہا کہ جنرل فیض کا معاملہ نیشنل سیکورٹی کا مسلہ نہیں لوکل مسئلہ ہے۔ آرمی چیف سے مطالبہ ہے کہ وہ جنرل فیض کا اوپن ٹرائل کرائیں کیونکہ اوپن ٹرائل سے دنیا کے سامنے حقائق آجائینگے۔ تاہم مجھے معلوم ہے یہ اوپن ٹرائل نہیں بند کمرے میں فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا میرے خلاف سارے کیسز کلیپس ہوچکے ہیں۔ میرا جنرل فیض سے ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی رابط نہیں نہ کوئی تعلق رہا۔آدمی جب ریٹائرڈ ہوجاتا ہے وہ فارغ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا نو مئی کی سازش میری گرفتاری سے شروع ہوئی پتہ کریں میری گرفتاری کا آرڈر کس نے دیا۔ مجھے معلوم ہے مجھے گرفتار کرنے کا آرڈر کس نے دیا۔جو رینجرز کو کنٹرول کرتا نمبر 1، بادشاہ سپر کنگ ہے ۔ تاہم بانی پی ٹی آئی نام لینے سے کتراتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل فیض ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے کیا فائدہ دے سکتا تھا۔ یہ احمق لوگ ہیں کہتے ہیں جنرل فیض نے مجھے کوئی فا ئدہ پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا میں سول سابق وزیراعظم ہوں مجھے ملٹری کورٹ میں لے جانے سے پاکستان کا امیج خراب ہوگا۔
Comments are closed.