آج پاکستان کو تقسیم نہیں یکجہتی کی ضرورت ہے، میں اور آ رمی چیف یک جان دو قالب ہو کر ملک و قوم کی خدمت میں مصروف ہیں، وزیر اعظم

اسلام آباد (آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کا خاتمہ ہوچکا تھا چند غلطیوں سے دوبارہ لہر ا?ئی۔ دہشتگردی کی جنگ میں 70 ہزار پاکستانیوں نے جانیں قربان کیں ، ہم ہر صورت دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے ، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں چاروں صوبوں نیقربانیاں دیں۔آج پاکستان کو تقسیم نہیں یکجہتی کی ضرورت ہے ، میں اور آ رمی چیف یک جان دو قالب ہو کر ملک و قوم کی خدمت میں مصروف ہیں ۔ وقت کا تقاضا ہے ملکی ترقی کے لئے سب اپنا کر دار ادا کریں ۔ پنجاب حکومت کے ریلیف پر سیاست نہیں ہو نی چاہیے ۔ بدقسمتی سے پچھلے چند سالوں میں بعض غلطیوں کی بنا پر دہشت گردی دوبارہ آئی، دہشت گردی کے واقعات کا خاتمہ ہوچکا تھا، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں150ارب ڈالرکا پاکستان کونقصان ہوا، پاکستان کودہشت گردی کیخلاف جنگ میں صرف20ارب ڈالرملے۔یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم نے یوم اذزادی جوش و خروش سے منا یا ۔ ان خوشیوں میں ایک اور خو شی چالیس سال بعد اولمپکس میں گولڈ میڈل کی جیت کی بھی تھی ۔ قومی ہیرو ارشد ندیم نے نے ان خوشیوں کو دو بالا کیا ۔ ارشد نے ہمت نہیں ہاری اور دن رات کی جستجو اور محنت کے بعدملک کے لئے گولڈمیڈل جیت کر یہ ثابت کیا کہ ھالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں ہم نے ہار نہیں ماننی ۔ قائد اعظم کی قیادت میں جس طرح عظیم قربانیاں دیکر پاکستان معرض وجود میں آیا ۔ ہم اس کو رول ماڈل بنا کر چلیں تو پاکستان اقوام عالم میں نمایاں مقا م حاصل کرنے سے پیچھے نہیں رہے گا ۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوے کہا ترقی کی کنجی آپ کے ہاتھ میں ہے ۔ کل کے پاکستان کو کامیاب بنانے کے لئے آپ نے اہم کردار ادا کرنا ہے ۔

حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ نوجونوں کو جدید تعلیم اور ٹیکنا لوجی دے ۔ اگر نوجوانوں کو مواقع دئیے تو پاکستان کی طرف کوئی معاشی یا دفاعی حوالے سے میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا ۔ اتفاق یکسوئی اور اتحاد سے آگے بڑھنا موجودہ وقت کا تقاضا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سستتر سال میں ہم نے بڑی بڑی کامیا بیاں بھی سمیٹیں ۔ صدق دل کے ساتھ اس کا تجزیہ کیا جائے تو ہمیں بہت سی کا میابیاں دیکھنے کو ملیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ تہتر کا آئین قومی وحدت کی علامت ہے جو کہ اس وقت کے مدبر سیاستدانوں نے تیار کیا ۔ پاکستان تما م مشکلات اور عالمی پا بندیوں کے باوجود ایٹمی طاقت بنا ۔ فیصلہ جب اٹل ہو اللہ راستے خود بنا دیتا ہے ۔ پاکستان واحد اسلا می ملک ہے جو سپر پاور بنا ۔ دشمن ہمیں میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا ۔ دہشتگردت کے خاتمے کیلئے ستر ہزار پاکستانیوں نے قربانیاں دیں ۔ قربانیاں دینے والوں میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے ۔ ہم نے دہشتگردی کے اس ناسور کو ہم نے دفن کیا ۔

لیکن بد قسمتی سے گذشتہ چند سالوں کی غلطیوں سے دہشتگردی کی یہ لعنت واپس آ گئی ۔ اس جنگ میں ملک کی معیشت کو ڈیڑھ سو ارب کا نقصان ہوا ۔ دنیاکو اس سے فائدہ پہنچا ۔ اس نا سور کے خاتمے میں تمام دفاعی ادروں کا بھرپور کردار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا سندھ نے بہت تیزی سے ترقی کی افسوس اس سے پوری طرھ فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ انہوں نے کہا ہمار ائر لائنز نے دیگر برادر ملکوں کو ائر لائنز بنا کے دیں لیکن آج حالت یہ ہے کہ پی آئی اے کو آج ہمیں پرائیویٹائز کرنا پڑ رہا ہے جو افسوسناک ہے ۔ کوریا نے ہمارے پانچ سالہ منصوبے سے فائدہ اٹھا یا لیکن آج ہم کوریا سے ترقی میں پیچھے رہ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اب نوجوانوں نے اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے ۔ بجلی، محصولات، ایکسپورٹ سمیت دیگر چیلنجز کے باوجود ترقیاتی فنڈز سے تمام وسائل آپ کے قدموں میں نچھاور کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور میرے خادم اعلی پنجاب کے دور میں لاکھوں لیپ ٹاپس میرٹ کی بنیاد پر نوجوانوں میں تقسیم کئے گئے بائیس ارب کے وظائف لا کھوں بچوں اور بچیوں کو میر ٹ کی بنیاد پر دئیے گئے ۔ ابھی بھی ہم نے نوجوانوں کی تعمیر کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے ۔

نوجوان تمام سمال میڈیم انٹر پرائز می سکیموں سے فائدہ اٹھائیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دولخت کرنے والے شخص کے مجسموں کا حال سب کے سامنے ہے یہ ہوتا ہے انجام جو ملک کے ساتھ غدار ی کرے ۔ انہوں نے کہا بجلی عام آد می کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے ہم نے پچاس ارب روپے ترقیاتی بجٹ سے نکال کر دو سو یونٹ والے صارفین کو تین ماہ کے لئے ریلیف دیا تھا ۔ اب پنجاب حکومت نے پینتالیس ارب روپے بجٹ سے نکال کر پانچ سو یونٹس وا لے صارفین کو یلیف دیا لیکن اس معاملے کو سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے ۔ جس سے گریز کیا جانا چاہیے ۔ باقی صوبوں کو بھی تنقید کے بجائے اس رول ماڈل کو اپنانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ صدق دل سے ملک کی تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیں تو پاکستان اقوام عالم میں با وقار مقام بہت جلد حاصل کر سکتا ہے ۔ سیا ستدان اور ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہتے ہوے ملک کی خدمت کر یں گے تو ملک آگے ہی بڑھتا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اتفاق ، اتحاد اور یگانگت سے آگے بڑھنے کا عزم کر رکھا ہے ۔ آج میں اور آرمی چیف یک جان دو قالب ہو کر ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں ۔

Comments are closed.