پاکستان کے قیام میں شہدا کا خون شامل ہے، یہ ملک تاقیامت قائم رہے گا، وزیر اطلاعات و نشریات

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے قیام میں شہدا کا خون شامل ہے ۔ یہ ملک تاقیامت قائم رہے گا ۔ پاکستا نی اگر کسی چیز کی ٹھان لیں تو دنیا کی کوئی طا قت انھیں روک نہیں سکتی ۔ ملک کی ساٹھ فیصد آبادی تیس سال سے کم عمر نو جوانوں پر مشتمل ہے ۔ نوجوانوں نے اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے ۔ یوتھ کنونشن سے کطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سا ٹھ فیصد آبادی تیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ نوجوانوں نے اس ملک کی تقدیر بدلنی ہے ۔ انہوں نے کہ ہمیں برصغیر میں الگ مملکت بنانے کی حقیقت کو سمجھنا ہو گا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت ظلم کے مظالم ڈھا رہا ہے اور کشمیری ظلم برداشت کر کے بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا تحریک پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا ۔ نوجوانوں نے ہی اس ملک کو بنا یا تھا اور انہوں نے ہی اس کو بچانا ہے ۔ پاکستان قربانیوں کی بنیادوں پر قائم ہو ا۔ دوران ہجرت بارہ لاکھ سے زا ئد افراد کو شہید کیا گیا ۔

ٹرینوں کی ترینیں لاشیں بھری ہوئی پاکستان آئیں ۔ اس ملک کی بنیادوں میں شہدا کا خون شامل ہے ۔ یہ ملک ستائیس رمضان المبارک کو وجود میں آیا ۔ اس ملک نے تا قیامت قائم رہنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو سینتالیس میں ہماری خواتین نے بھی نا قابل فر اموش قربانیاں دیں ۔ خواتین آج بھی اس ملک کی تعمیر وترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا پاکستانی جب کسی چیز کی ٹھان لیتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت پھر انھیں روک نہیں سکتی اس کی ایک مثال میاں چنوں کا نوجوان ہے ۔ ارشد ندیم ہمار ی قوم کا ہیرو اور اثاثہ ہیں ۔ اس کی کامیابی ہم سب کے لئے ایک مثال ہے جب یہ نوجوان لاہور آیا تو اس کے پاس پہننے کے لئے جوتے تک نہ تھے ۔ اس نے اپنے کیرئیر کے دوران دوہزار بارہ کی ا ولمپکس میں ہر کھیل کو آز مایا ۔ اس نے پہلی جیولین درخت کی ٹہنی توڑ کر بنائی اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ اس نے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر اپنے ملک کا پر چم بلند کیا اور اس کی جیت نے پوری قوم کو متحد کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نو جوانوں کی تعمیر و ترقی کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں ۔ ن لیگ نے اپنے گذشتہ د ور اقتدار میں تعلیمی اداروں میں لیپ ٹاپس تقسیم کرنے کا آغاز کیا ۔ تو ہمیں تنقید کا نشانہ بنا یا گیا ۔ دانش سکولوں کے آغاز پر بھی ہمیں باتیں سننے کو ملیں ہمارے ہر منصوبے کا آ غاز نہ سے کیا گیا لیکن ہمارے وہی منصوبے پھر مقبول بھی ہوتے گئے ۔ دانش سکول کے طلبہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ باتیں کرنا آسان ہے کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا جن مواقع پر نوجوانوں کا حق ہے اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آئی ٹی ، کھیل اور زرا عت میں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہو گا ۔ پچھلے چار ماہ کے اندر ہماری آئی ٹی ایکسپورٹس میں تین گنا اضافہ ہوا، پاکستان میں نوجوان آئی ٹی ایکسپرٹس آگے بڑھ رہے ہیں۔ نوجوانوں نے بہت سارا کام اپنے بل بوتے پر کیا۔ ا نہوں نے کہا ملک کی سمت اور معیشت کو درست کرنے، آئی ٹی انقلاب برپا کرنے اور معیاری تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ملکی ترقی کا انحصار نوجوانوں پر ہے۔ حکومت کی اگر دن میں 15 اجلاس ہوتے ہیں تو پانچ صرف نوجوانوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ ہم 2030ء تک جی 20 تک پہنچیں گے۔ ہم آنے والی نسلوں کے لئے بہتر پاکستان چھوڑیں گے،

Comments are closed.