مہنگی بجلی سے انڈسٹری نہیں چلا سکتے مجبورا بند کر رہے ہیں،ڈاکٹر گوہر اعجاز
فیصل آباد(آن لائن)سابق نگران وفاقی وزیر اور اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ بارے تھنک ٹینک کے چیئرمین ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کہاہے کہ مہنگی بجلی سے انڈسٹری نہیں چلا سکتے مجبورا بند کر رہے ہیں،ابھی احتجاج نہیں کر سکتے،کاروباری برادری تھوڑا انتظار کرے،28 اگست کی ہڑتال کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ آئی پی پیز نے صنعت اور ملک کے تمام دیگر شعبوں کو یر غمال بنا رکھا ہے جبکہ محب وطن بزنس کمیونٹی پاکستان کو دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بنانے کیلئے کوشاں ہے، پوری دنیا میں بجلی کی قیمت دس سینٹ سے زیادہ نہیں مگر یہاں 40خاندانوں کو نوازنے کیلئے پورے ملک کی قربانی دی جا رہی ہے۔آن لائن کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں تاجر راہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ وزیر تھے تو اس وقت آپ نے یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بطور کامرس منسٹر کابینہ کے ہر اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا کہ 16سینٹ کی بجلی پر کوئی بھی صنعت نہیں چل سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سٹڈی کرائی کہ صنعتی شعبہ 24ہزار کروڑ روپے کی سبسڈی دوسرے طبقوں کو دے رہا ہے۔ اس سٹڈی کی روشنی میں سپیشل انوسٹمنٹ فیسلی ٹیشن سنٹر سے پاس کرایا کہ صنعتوں کو بجلی 9سینٹ پر ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 200دن بطور وزیر کام کیا اور اس دوران برآمدات میں ساڑھے تین ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے 240 ارب روپے نکالے گئے مگر فیصلہ ہوا یہ نگران حکومت کا مینڈیٹ نہیں اور اس بارے میں اعلان آئندہ منتخب حکومت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کو بجلی 42روپے، گھریلو صارفین کو 60اور کمرشل صارفین کو 80سینٹ میں بجلی قابل برداشت ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2لاکھ 10ہزار کروڑ 50فیصد سے کم پر چلنے والے آئی پی پیز کو دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کا نظام حکومت سے نہیں چل رہا۔ کراچی الیکٹر ک نے حال میں ہی کھلی بولی کے ذریعے ونڈ اور سولر سے بجلی 10سینٹ میں خریدی ہے جبکہ حکومت پاکستان یہی بجلی 80روپے میں خرید رہی ہے جسے بعد میں صارفین سے وصول کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے چاروں ستونوں، مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا سے گزارش ہے کہ وہ سوشل کنٹریکٹ کے تحت عوام کے حقوق کی حفاظت کا اعلیٰ ترین فریضہ سر انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی معاہدوں کی دھمکی دی جاتی ہے حالانکہ کسی بھی آئی پی پیز نے خود اپنے معاہدوں کی پابندی نہیں کی اور اس کے واضح ثبوت موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس لئے وہ عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ سے ہر طبقہ احتجاج پر تلا ہوا ہے مگر وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی ہڑتال کی کال دینے کا وقت نہیں آیا۔ تاہم ریاست کے چاروں ستونوں سے گزارش ہے کہ وہ ایمانداری سے اپنا کردار ادا کریں اور عوام کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ سوا ل و جواب کی نشست کے دوران گوہر اعجاز نے کہا کہ آئی پی پیز کے مالک چالیس خاندان کسی سے ڈر نہیں رہے تاہم میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ اللہ سے ڈریں کیونکہ انہوں نے خود ہی معاہدوں کی پاسداری نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ 7ماہ میں انہوں نے پاکستان کی زرعی برآمدات میں ساڑھے تین ارب ڈالر کا اضافہ کیا تھا جبکہ مینو فیکچرنگ سیکٹر میں بھی 8 ارب ڈالر کا اضافہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسیاں معاشی اصولوں کے مطابق چلتی ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو سازگار ماحول مہیا کرے ۔ یہی لوگ پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر ڈاکٹر سجاد ارشد اور نائب صدر حاجی محمد اسلم بھلی کے فیڈریشن کے سابق صدر دارو خان اچکزئی، احمد چنائی اور ذکی اعجاز بھی موجود تھے جبکہ پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے پیٹرن خرم مختار، سمال چیمبر آ ف کامرس اینڈٹریڈ کے میاں ظفر اقبال، عارف احسان ملک، میاں فرخ اقبال ، وحید خالق رامے ، شکیل احمدانصاری ،محمد اصغر قادری اور چوہدری محمد نواز نے بھی خطاب کیا۔
Comments are closed.