پاور شیئرنگ کا معاملہ: ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

لاہور(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی رابطہ کمیٹیوں کے درمیان ماور شئیرنگ کے معاملے پر جاری اجلاس ختم ہوچکا ہے، جس کی اندرونی کہانی بھی سامنے آگئی ہے۔دونوں جماعتوں نے مل کر چلنے پر اتفاق کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ جن علاقوں میں پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی ہے وہاں افسران بھی ان کی مشاورت سے لگائے جائیں گے اور پی پی ارکان کو بھی ن لیگ کے برابر فنڈز دیئے جائیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے درمیان 3 دن قبل ملاقات ہوئی تھی جس میں پیپلز پارٹی نے شکوہ کیا تھا کہ پنجاب حکومت میں پیپلز پارٹی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ کے معاملے پر دونوں جماعتوں کی مشترکہ کمیٹی کی اہم بیٹھک آج ہوئی۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قائم کردہ مشترکہ کمیٹی کا اجلاس گورنر ہاؤس میں دو بجے شروع ہوا۔مذاکراتی کمیٹی میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب، ملک احمد خان شریک تھے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے راجہ پرویز اشرف، ندیم افضل چن، حسن مرتضیٰ اور علی حیدر گیلانی شریک ہوئے۔گورنر ہاؤس میں طلب کی جانے والی میٹنگ میں پاور شیئرنگ کے وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔پیپلز پارٹی کے تحفظات بھی اجلاس میں زیر غور آئے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان حکومتی اتحاد کے تحریری معاہدے پر مشاورت ہوئی، اجلاس میں معاہدے کے بقیہ نکات پر مرحلہ وارعمل درآمد کرنے پر اتفاق ہوا۔ذرائع نے بتایا کہ کچھ نکات پر عمل درآمد فوری اور باقی نکات پر ٹائم فریم دینے پر اتفاق ہوا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے قانون سازی، بجٹ اور پالیسیوں پر قبل از وقت پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینے پر اتفاق کیا، ملک کے استحکام کے لئے دونوں جماعتوں نے مل کر چلنے پر اتفاق کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب نے الیکشن میں جن اضلاع میں کامیابی حاصل کی وہاں مرضی کے افسران تعینات ہوں گے۔پنجاب میں پیپلز پارٹی کو ن لیگ کے ارکان کے برابر ترقیاتی فنڈز دینے پر اتفاق بھی ہوا۔دونوں جماعتوں کے رہنما اجلاس کی رپورٹ قائدین کو پیش کریں گے۔

Comments are closed.