ارشد شریف قتل کیس،جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جو کچھ کل ہوا پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے، ابھی بھی نوجوان ملک سے باہر جا رہے ہیں،جبکہ دوران سماعت، اٹارنی جنرل نے بتایاہے کہ کینیا حکومت کے ساتھ معاہدہ ہونا ہے، کینیا حکومت کی جانب سے کسی حد تک رسائی دی گئی تھی جس کے بعد فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تیار کی گئی، جب وہ رپورٹ پبلک ہوئی تو کینیا حکومت نے ناراضگی کا اظہار کیا اور رسائی ختم کر دی۔انھون نے یہ رپورٹ منگل کو عدالت عالیہ کے روبرو پیش کی ہے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کینیا حکومت کے ساتھ معاہدہ ہونا ہے، کینیا حکومت کی جانب سے کسی حد تک رسائی دی گئی تھی جس کے بعد فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ تیار کی گئی، جب وہ رپورٹ پبلک ہوئی تو کینیا حکومت نے ناراضگی کا اظہار کیا اور رسائی ختم کر دی۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس کے بعد کینیا میں عام انتخابات ہوگئے اس کے بعد رپورٹ مکمل کی گئی، معاہدے کا ڈرافٹ تیار ہونے کا کابینہ نے منظور کر لیا ہے اب کینیا بھیجا جائے گا، ارشد شریف شہید کے معاملے میں دو پاکستانیوں کو انوسٹیگیٹ کیا گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ درخواست جوڈیشل کمیشن سے متعلق ہے، جو معاہدہ ہوا ہے یا نہیں ہوا جو بھی ہے اس پر پاکستان کا کیا موقف ہے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ تشکیل دیا جا چکا کیس گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد سنا جائے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر پاکستان میں جوڈیشل کمیشن بنتا ہے تو کیا کینیا میں انوسٹیگیشن کر سکتے ہیں، کینیا کی اتھارٹیز تو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے پابند نہیں۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہوگا کینیا کے ساتھ معاہدے کے بعد بھی مشکلات ہوں گی۔بعد ازاں وکیل شعیب رزاق نے کہا کہ ہماری درخواست ہے ارشد شریف کے ساتھ ساتھ دیگر صحافیوں کے قتل سے متعلق بھی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، اس پر درخواستگزار حامد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دیگر 14 صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی، کوئی صحافی کسی ایکسیڈنٹ میں نہیں مارا گیا، بم دھماکا یا گولی سے مارا گیا ہے، وکیل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، ارشد شریف کے پاس کسی ملک کا ویزہ نہیں تھا?۔اس پر چیف جسٹس اسلام ا?باد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ جو کچھ کل ہوا پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے، ابھی بھی نوجوان ملک سے باہر جا رہے ہیں، ارشد شریف بھی پاکستان کے شہری تھے۔ وکیل درخواستگزار اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کمیشن بنایا جائے جو بتائے ارشد شریف ملک سے باہر کیوں گیا؟ میں یہ پچھلے 2 سال سے سن رہا ہوں کہ کینیا حکومت کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو رہا ہے۔اس پر عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ یہ جو معاہدے کی بات کر رہے ہیں یہ کب تک ہو جائے گا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میوچل لیگل اسسٹنس سے متعلق ہم دفتر خارجہ کو کہہ سکتے ہیں، وہ کینیا کے سفیر سے درخواست کر سکتے ہیں، اگر جوڈیشل کمیشن بن بھی جاتا ہے تو کینیا جا کر تحقیقات نہیں کر پائے گا۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے دریافت کیا کہ میوچل لیگل ایگریمنٹ کے بعد کیا پیشرفت ہو سکے گی؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ارشد شریف قتل سے متعلقہ لوگ کینیا میں موجود ہیں، جس شخص نے انہیں ایئرپورٹ سے لیا اور واقعے کے وقت موجود شخص بھی کینیا میں ہے، جوڈیشل کمیشن بنتا بھی ہے تو اسے کینیا میں رسائی نہیں دی جائے گی

، کینیا کی اتھارٹیز کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی پابند نہیں ہوں گی۔اس پر عدالت نے مزید دریافت کیا کہ کینیا سے معاہدہ ہو جاتا ہے تو وہ شواہد فراہمی کے لیے ہو گا؟ وکیل شعیب رزاق نے بتایا کہ اس ہائی کورٹ نے گزشتہ روز ارشد شریف کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات سے متعلق فیصلہ دیا، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ارشد شریف کو پبلک اتھارٹیز اور ایجنسیوں کی طرف سے ہراساں کیا گیا، ایک صحافی مارا گیا اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ کیا حالات تھے کہ ارشد شریف کو ملک چھوڑنا پڑا، مجھے میسج آتا تھا کہ ایک اور ایف آئی آر ہو گئی ہے، کر لو جو کرنا ہے، ارشد شریف پختہ یقین رکھتا تھا کہ اْس نے ملک چھوڑ کر نہیں جانا، اس کے پاس ویزہ بھی نہیں تھا۔اس پر عدالت نے کہا کہ ہم آپ کے جذبات کو سمجھتے ہیں لیکن اس عدالت نے جذبات سے نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے، اس پر وکیل نے بتایا کہ ہمارا کیس یہ ہے کہ پاکستان میں ارشد شریف کے خلاف اتنے مقدمات کیسے درج ہوئے؟ ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ ارشد شریف کو کیسے ہراساں کیا اور ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا؟اس پر اٹرانی جنرل نے کہا کہ رٹ منظور کر بھی لی جائے تو بھی واضح نہیں ہو گا کہ پاکستان اور کینیا کے معاملے کا کنکشن ہے۔اسی کے ساتھ عدالت نے ارشد شریف شہید کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کی حامد میر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

Comments are closed.