کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں، دفتر خارجہ

اسلام آباد (آن لائن) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کا کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں، افغانستان کے ساتھ مختلف چینلز پر دہشت گردوں کے ایشو پر رابطے جاری ہیں ، خطے میں اسرائیلی مہم جوئی مشرق وسطی کے امن کے لئے خطر ہ ہے ۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ افغان حکومت ٹی ٹی پی سمیت پاکستانی عوام کی خونریزی میں ملوث گروہوں اور افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ ہم نے بارہا افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال کا معاملہ اٹھایا ہے، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں فتنہ خوارج کی موجودگی اقوام متحدہ سمیت متعدد عالمی اداروں سے ثابت ہے۔ ترجمان نے کہا پاکستان اورافغانستان کے درمیان دہشت گردی پر انٹیلی جنس شیئرنگ کے حوالے سے معلومات جاری نہیں کر سکتے۔

دونوں ممالک کے درمیان متعدد رابطے کے چینلز موجود ہیں، ان چینلز پر دہشت گردی پر شواہد کا افغانستان کے ساتھ تبادلہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکریٹری خارجہ آج کیمرون میں او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہ اسرائیل کے ایڈونچرازم، اسلاموفوبیا اور دیگر ایشوز پر پاکستان کا مو قف پیش کریں گے، یو این سیکیورٹی کونسل سے اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی نسل کشی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ 15، 16 اکتوبر کو ایس سی او کا اجلاس اسلام آباد میں ہو رہا ہے ، بھارتی وزیرِ اعظم سمیت ایس سی او کے سربراہان مملکت کو دعوت دی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان رابطوں کے چینل موجود ہیں، ایران کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا قانونی ٹیم جائزہ لے رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آصف مرچنٹ کے حوالے سے امریکی انتظامیہ سے معلومات کے منتظر ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کے تحفظ سے متعلق پْرعزم ہے۔ترجمان نے کہا کہ قومی اسمبلی اسیپکر کے زیر صدارت پارلیمانی وفد بلا روس کے دورے پر تھے۔ ترجمان نے خان یونس میں اسرائیل کی جانب سے تاریخی مسجد پر بمباری کی شدید مذمت کی ۔

ترجمان نے کہا حریت رہنما علی شاہ گیلانی کی برسی یکم ستمبر کو منائی جائے گی۔ سید علی گیلانی کشمیر کی جہدوجہد کی توانا آواز تھے ترجمان نے کہا پاکستان کے ساتھ بھارت کے ساتھ ڈائیریکٹ دوطرفہ تجارت نہیں ہے۔ اگر کوئی یک طرفہ درآمدات کرتا ہے تو وہ ممکن ہے۔ اس حوالے سے آپ وزرات تجارت سے رابطہ کریں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن پر ایران کی جانب سے عالمی ثالثہ عدالت میں جانے پر ترجمان دفتر خارجہ نے رد عمل د یتے ہوے کہا کہ ہماری لیگل ٹیم اور وزارت پٹرولیم بھی معاملے کو دیکھ رہی ہیں ۔ ترجمان نے کہا افغان عبوری حکومت کا تسلیم کرنے پر ہمارا موقف پہلے سے واضح ہے ۔ ہم اپنے ریجنل پارٹنرز کو اعتماد میں لیکر ہی کوئی فیصلہ کرینگے۔ چین سے حاصل شدہ قرضے طویل المدتی اور کم شرح سود پر ہیں ۔ پاکستان تمام چینی شہریوں, منصوبوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان کے برطانیہ سے قریبی اور دیرینہ تعلقات ہیں۔ ترجمان نے کہا پاکستان نے بھارتی وزیراعظم کی پرواز کو اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد نہیں کر رکھی ہے۔

پاکستان مسلسل اپنے تمام شہریوں کو ان ممالک کے قوانین کے احترام کا کہتا ہے جن کا وہ دورہ کر رہے ہیں۔ پاکستان بنگلہ دیشی عوام کے لیے بھرپور احترام کے جذبات رکھتا ہے۔ پاکستان یقین رکھتا ہے کہ بنگلہ دیشی عوام اپنے مسائل کو خود حل کر سکتے ہیں۔ ترجمان نے بانی تحریک انصاف کے چانسلر منتخب ہونے پر لندن جانے کی اجازت کے سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوے کہا کہ یہ ایک سیاسی نوعیت کا سوال ہے۔ دوسرا بھی سب قیاس آرائیاں ہیں اس لئے سوال پر کوئی رائے دینا مناسب نہیں ۔

Comments are closed.