8 ستمبر کو آخری مرحلہ شروع ہو گیا ہے اپنے حق کے لیے نکلیں‘بانی پی ٹی آئی کی قوم سے اپیل
راولپنڈی (آن لائن)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے 8ستمبر کو قوم سے باہر نکلنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ 8 ستمبر کو آخری مرحلہ شروع ہو گیا ہے اپنے حق کے لیے نکلیں‘آئین کے مطابق آپکا حق بنتا ہے کہ احتجاج کریں اگر نا انصافی ہو رہی ہے تو آپ اپنا حق مانگ سکتے ہیں‘ کسی روپوش رہنما کو باہر آنے کا نہیں کہا،جیل سے نہیں ڈرتے مگر اغوا کر لیا جاتا،پلان بی بن گیا تو وزیراعظم بھی اغوا ہو سکتا ہے،پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کرنے کیلئے حکومت قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ مل کر سازش کررہی ہے۔قاضی فائز عیسیٰ کے جاتے ہی چار حلقے کھلیں گے حکومت اپنے آپ گر جائے گی۔اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنظیمی معاملات میں اپنے علاقے کے عہدے داروں سے رابطہ کریں۔عمران خان نے کہا ہے علی امین 8 ستمبر کو لیڈ کر کے کے پی کے سے پہنچیں گے۔بانی پی ٹی آئی نے روپوش رہنماؤں سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔کسی روپوش رہنما کو باہر آنے کا نہیں کہا ہے۔ہمارے جو لوگ روپوش ہیں باہر آئینگے تو انکو اٹھا لیا جائیگا۔روپوش رہنماوٴں کو ہدایت ہے وہ ابھی باہر نہ نکلیں۔ہمیں جیل سے ڈر نہیں لگتا مسئلہ یہ ہے ہمارے لوگوں کو اغواء کیا جاتا ہے۔ہمارے لاہور کے صدر سمیت اظہر مشوانی کے دو بھائیوں کو اغواء کیا گیا۔
جیل سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو بھی اغواء کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پولیس والوں نے عدالت میں کہا ہے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کسی عورت کے ساتھ بھاگا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم کو کہا ہے اغواء شدہ لوگوں کا معاملہ کیوں نہیں دیکھتے۔اگر ان کا پلان بی بن گیا اور وزیراعظم عہدے سے اترا تو وہ بھی اغواء ہوسکتا ہے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا مینڈیٹ چوری کرنے کیلئے حکومت قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ مل کر سازش کررہی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ قاضی فائز عیسیٰ چھ سات ماہ سے الیکشن کھلنے نہیں دے رہا۔قاضی فائز عیسیٰ کے جاتے ہی چار حلقے کھلیں گے حکومت اپنے آپ گر جائے گی۔ ہمارے لوگ ساتھ ستر ہزار ووٹوں سے جیتے ہیں حیرانی ہے عون چودھری نے ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے۔ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے لوگ حکمرانوں پر ٹرسٹ نہیں کرتے۔حکومت کہہ رہی ہے دہشت گردی پی ٹی آئی کی وجہ سے ہورہی ہے۔ہم نے تو ان لوگوں کو بلا کر سیٹل کروایا۔ان کا کہنا تھا کہ اگست میں امریکہ افغانستان سے گیا تو ستمبر میں ہم نے ٹی ٹی پی کے خاتمے کیلئے افغان حکومت سے بات کی۔افغان حکومت ہمارے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار تھی۔جنرل فیض حمید نے اپوزیشن کو بریفنگ بھی دی تھی۔نواز شریف کے مطالبے پر اکتوبر میں جنرل فیض کو ہٹایا گیا اسکے بعد افغان حکومت سے مزاکرات کا پلان ختم ہوگیا۔محسن نقوی کراس بارڈر دہشت گردی کی بات کررہا ہے اسکا مطلب دہشت گردی افغانستان سے ہورہی ہے۔پاکستان نے یہ معاملہ ہر فورم پر اٹھایا وہاں بمباری بھی کی۔کیا بلوچستان میں بھی ہم نے دہشت گردی کروائی کیا یہ بھی ہماری زمہ داری ہے۔بلوچ پاکستان کے خلاف ہوگئے ہیں یہ بہت خطرناک ہے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کچے میں دہشت گردی روکنا کس کی زمہ داری ہے۔
دہشت گردی سے ملک تباہ ہورہا ہے میں ہر قسم کی دہشت گردی کی مزمت کرتا ہوں۔بلوچستان کے موجودہ حالات، کچے میں ڈاکوؤں کے حملے اور اسٹریٹ کرائم کا سارا نزلہ اسٹیبلشمنٹ پر گر رہا ہے۔ہمارے دور میں انٹیلیجنس ایجنسیز دہشت گردی روکنے میں مصروف تھیں۔آج پی ٹی آئی کے پیچھے لگی ہیں اس سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں۔ہمارے دور میں دہشت گردی نہیں تھی حالانکہ افغان حکومت ہمارے خلاف تھی۔ملک میں لوٹ مار اور ڈاکے پڑرہے ہیں یہ کس کی ذمہ داری ہے۔تاریخ میں اتنا اسٹریٹ کرائم نہیں ہوا جتنا اب ہورہا ہے۔ٹی ٹی پی کی دہشت گردی افغان حکومت کے تعاون کے بغیر ختم نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا 25 سو کلومیٹر کا بارڈر ہے یہ بارڈر کے اس طرف چلے جائینگے۔اشرف غنی پاکستان مخالف تھا اسکے باوجود میں پاکستان گیا۔آپ نے گاڑیاں بھر بھر کر افغان مہاجرین کو واپس بھیجا کیا دہشت گردی ختم ہوگئی۔آپ نے پتلے بٹھا دیئے انکی جڑیں نہیں ہیں یہ پیسے بنارہے ہیں۔آپ کو مینڈیٹ واپس کرنا ہوگا دنیا میں امن شفاف الیکشن کے زریعے آتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں 70 کروڑ لوگوں نے ووٹ ڈالا کسی نے اعتراض نہیں اٹھایا۔بھارت میں الیکٹرونک ووٹنگ مشین تھی میں بھی پاکستان میں ای وی ایم لانا چاہتا تھا۔باجوہ، الیکشن کمیشن اور پیپلز پارٹی نے ای وی ایم نہیں آنے دی۔کچے کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے جانے سے انکار کردیا ہے۔ 8 فروری کو انہوں نے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا اب 8 ستمبر کو اسلام آباد میں ہر صورت جلسہ ہوگا۔پوری قوم کو کہہ رہا ہوں 8 ستمبر کو باہر نکلیں۔
Comments are closed.