مزید ٹیکسز نہیں لگتے تو کلہاڑی ترقیاتی بجٹ پر پڑے گی ،احسن اقبال
اسلام آباد(آن لائن ) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ جب یہ سال شروع ہوا تو ترقیاتی بجٹ 1400 ارب کا تھا اب اس بجٹ میں 300 ارب کا کٹ لگ گیا ہے اوراب ترقیاتی بجٹ کا حجم 1100 ارب رہ گیا ہے ،مزید ٹیکسز نہیں لگتے تو کلہاڑی ترقیاتی بجٹ پر پڑے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا تلاوت نعت اور قومی ترانے کے بعد اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی کوشش کی تو سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پہلے وقفہ سوالات مکمل ہونے دیں اس پر پیپلز پارٹی کے رہنما آغاز رفیع اللہ نے کہا کہ اگر یہ بات کریں گے تو میں کورم کی نشاندھی کروں گا سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پہلے وقفہ سوالات ہو گا کیونکہ ممبران نے اس پر بڑی محنت کی ہے پہلے سوال کے لیے شرمیلا فاروقی کا نام پکارا گیا تو وہ ایوان میں موجود نہیں تھیں اسی دوران رکن اسمبلی شاہد خٹک نے کورم کی نشاندھی کر دی کورم پورا ہونے کے بعد وقفہ سوالات میں جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر سٹرکچرل ریفارمز کررہے ہیں پی ایس ڈی کا حجم گیارہ سو ارب ہیمزید ٹیکسز نہیں لگتے تو کلہاڑی ترقیاتی بجٹ پر پڑے گی انتہائی اہم منصوبوں پر کام کریں گے بنیادی طور پر علاقائی ترقی صوبوں کے اختیار میں ہیوفاقی حکومت کے پاس قلیل فنڈ رہ جاتا ہے قلیل فنڈز کے باوجود صوبوں کی مدد کریں گیاکاون فیصد تک قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے بعض صورتوں میں قرضوں کی ادائیگی پر سو فیصد تک بھی خرچ ہوجاتا ہے پیپلز پارٹی کے رہنما آغا رفیع اللہ نے کہا کہ کاغزات میں پاکستان بہت اچھا جا رہا ہے، سب اچھے کی رپورٹ ہیہمیشہ سے جو بھی وزیر اعظم آتا ہے کراچی کے لیے اربوں روپے کا اعلان کیا جاتا ہے ہمیشہ سے سندھ ہی محروم رہا ہے،وزیر صاحب سے اپنے علاقے کے لیے یونیورسٹی مانگ رہا ہوں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2013 – 18 کے درمیان جو ترقیاتی بجٹ 34 فیصد تھا وہ اب 5 فیصد رہ گیا ہیاج جن چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں وزیراعظم کی قیادت میں ریفارمز لائی جا رہی ہیں قرضے سے متعلق جن حالات میں چلے گئے ہیں ان سے بچنا چاہ رہے ہیں 18 ویں ترمیم کے بعد ترقیاتی ضروریات میں تبدیلی آ چکی ہے جو اختیارات صوبوں کو دیے گئے ہیں اس میں ریجنل ڈیویلپمنٹ بھی ہے وفاق کے پاس ترقیاتی بجٹ کا حجم سکڑ گیا ہے ہم نے 20 اضلاع کے لیے ایک سکیم شروع کی ہے جب یہ سال شروع ہوا تو بجٹ 1400 ارب کا تھا اب اس بجٹ میں 300 ارب کا کٹ لگ گیا ہے اور حجم 1100 ارب رہ گیا ہے اگر مزید ٹیکس بھی نہیں لگاتے تو اس سے بھی ترقیاتی بجٹ کم ہوتا ہے زیادہ ضرورت کے حامل ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بنیادی طور پر علاقائی ترقی صوبوں کا اختیار ہے
Comments are closed.