امریکی کانگرس یا ہاوٴس آف لارڈز کے اراکین کے پاوٴں نہیں دبائے ،حکومتی اراکین نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اسلام آباد(آن لائن ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے امریکی کانگرس یا ہاوٴس آف لارڈز کے اراکین کے پاوٴں نہیں دبائے، عدالتوں میں جا کے اپنی بے گناہی ثابت کریں جب رسیدیں دکھانے کا کہتے ہیں تو چیختے ہیں یہ اصل میں این آر او مانگ رہے ہیں واضح کر دوں آپ کے لیڈر کو این آر او نہیں ملے گا قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ریکارڈ کی درستگی کیلئے بات کرنا چاہتا ہوں میں اور رانا ثناء اللہ جیل میں رہ چکے ہیں ہمارے مقابلے میں بانی پی ٹی آئی کو فائیو سٹار ہوٹل کی سہولیات دی گئی ہیں
جب میں اڈیالہ جیل میں تھا تو کیا ممبر قومی اسمبلی نہیں تھا بانی پی ٹی آئی نے مجھے جس جیل میں رکھا آج وہ اسی سیل میں ہے ہماری فیملیز کو چھ چھ گھنٹے انتظار کروایا جاتا تھا کبھی یہ سٹریچر پہ کبھی وہیل چیئر پہ چیخیں مارتے ہیں کیا آپ نے کبھی رانا ثنا اللہ اور خواجہ آصف کی چیخیں سنیں تھیں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے امریکی کانگرس یا ہاوٴس آف لارڈز کے اراکین کے پاوٴں نہیں دبائے عدالتوں میں جا کے اپنی بے گناہی ثابت کریں جب رسیدیں دکھانے کا کہتے ہیں تو چیختے ہیں یہ اصل میں این آر او مانگ رہے ہیں واضح کر دوں آپ کے لیڈر کو این آر او نہیں ملے گااجلاس میں حنیف عباسی نے کہا کہ آج ان کو بلوچستان کی بدامنی کی بات یاد آرہی ہے اس کی بنیاد ان کے دادا ابو نے رکھی تھی یہ کیسی جیل ہے جس میں دیسی مرغی اور مکھن بھی ہیڈیمانڈ کی جاتی ہے کہ ایک ریسٹورنٹ سے ناشتہ لایا جائے جیلوں میں باقی قیدیوں کو بھی یہ سہولیات میسر ہونی چاہئیں یہ وہ شخص ہے جس نے رانا ثنا اللہ کی تصویر مانگی،جیل سپرنٹینڈنٹ کو اس لیے تبدیل کیا کہ وہ یہ چیزیں سپلائی کرتا تھا قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا
Comments are closed.