بلوچستان میں دہشت گردی کی لہر،اگست سال کا مہلک ترین مہینہ رہا

اسلام آباد (آن لائن)بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ‘ خیبر پختونخواہ سمیت دیگر صوبے میں کمی‘ اگست سال 2024 کا مہلک ترین مہینہ بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق دہشت گردی کے رجحانات پر نظر رکھنے والے آزاد تھینک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مطابق اگست 2024 سال کا سب سے مہلک مہینہ تھا، جس میں 254 افراد مارے گئے، جن میں 92 شہری، 54 سیکیورٹی اہلکار اور 108 عسکریت پسند شامل تھے۔ مزید برآں، 150 افراد زخمی ہوئے، جن میں 88 عام شہری، 35 سیکورٹی اہلکار اور 27 عسکریت پسند شامل ہیں۔ پکس کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں جنگجو گروپوں کے حملوں میں ہوئیں۔ اگست میں دہشت گردی کے 83 واقعات رونما ہوئے جن میں 175 افراد مارے گئے، جن میں 92 شہری، 47 سیکیورٹی اہلکار، اور 36 عسکریت پسند شامل تھے، اور 123 افراد زخمی ہوئے جن میں 88 شہری اور 35 سیکیورٹی اہلکارشامل تھے جبکہ اس ماہ کے دوران سیکیورٹی آپریشنز کے نتیجے میں 79 افراد مارے گئے، جن میں 72 عسکریت پسند اور سات سیکیورٹی اہلکار شامل تھے۔ 27 عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے۔ مزید برآں، سیکیورٹی فورسز نے 12 مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا، جب کہ عسکریت پسندوں نے کم از کم نو افراد کو اغوا کیا، جن میں پاکستانی فوج کے ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل اور ایک اسسٹنٹ کمشنر بھی شامل ہیں۔ کرنل اور اسسٹنٹ کمشنر کو دیگر افراد کے ہمراہ مذاکرات کے ذریعے بازیاب کرا لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جولائی 2018 کے بعد دہشت گرد حملوں میں سب سے زیادہ نقصان ماہ اگست میں ہوا جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیاں بھی عروج پر رہیں اور فروری 2017 کے بعد پہلی بار کسی ایک ماہ میں مشتبہ دہشت گردوں کی اتنی بڑی تعداد (108) ماری گئی۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سڈیز کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں ریاست مخالف تشدد میں سب سے نمایاں اضافہ ہوا، جو کہ سب سے زیادہ حملوں اور ہلاکتوں کے ساتھ فہرست میں سرفہرست رہا۔ صوبے میں عسکریت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے 80 عام شہری، 22 سیکورٹی اہلکار اور 23 عسکریت پسندوں سمیت 125 اموات ریکارڈ کی گئیں۔اس صوبے میں جولائی 2024 کے مقابلے میں پرتشدد واقعات میں 277 فیصد اضافہ، جانی نقصان میں 938 فیصد اور زخمیوں میں 208 فیصد اضافہ ہوا۔ صوبے میں اگست میں 49 پرتشدد واقعات دیکھنے میں آئے جبکہ جولائی میں صرف 13 واقعات رونما ہوئے تھے۔ بلوچستان کے برعکس، سابقہ فاٹا (خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع) میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی، جہاں پرتشدد واقعات میں 25 فیصد کمی آئی، اور شہریوں کے جانی نقصان میں 43 فیصد کمی واقع ہوئی۔ تاہم، عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں میں 98 فیصد اضافہ ہوا، جولائی میں 20 کے مقابلے اگست میں 65 عسکریت پسند مارے گئے۔ اس خطے میں سیکورٹی فورسز کے نقصانات میں بھی 54 فیصد اضافہ ہوا، جولائی 2024 میں 13 کے مقابلے اگست میں 20 اہلکار مارے گئے۔ قبائلی اضلاع کے علاوہ باقی صوبہ خیبر پختونخواہ میں سلامتی کی صورتحال میں نسبتا بہتری آئی۔ اگست میں 24 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ جولائی میں 42 واقعات رونما ہوئے تھے۔ جولائی میں 78 افراد مارے گئے تھے‘ اگست میں یہ تعداد کم ہو کر 24 ہو گئی جبکہ زخمیوں کی تعداد 30 سے کم ہو کر 15 رہ گئی۔دوسرے لفظوں میں صوبے میں پرتشدد واقعات میں 43 فیصد کمی، اموات میں 69 فیصد کمی، اور زخمیوں میں 50 فیصد کمی ہوئی۔سندھ میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی، جولائی میں نو کے مقابلے اگست میں دہشت گردی کے صرف دو واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ جولائی میں سات اموات ہوئی تھیں۔ پنجاب میں، صرف ایک پرتشدد واقعہ پیش آیا، جس میں دو عسکریت پسند مارے گئے، اور دو سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ پکس کے ڈیٹا بیس کے مطابق، 2024 کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران، عسکریت پسندوں نے پاکستان میں 640 حملے کیے، جن کے نتیجے میں 757 افراد مارے گئے اور 733 زخمی ہوئے۔ 2023 کے پہلے آٹھ ماہ کے مقابلے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں 51 فیصد اضافہ اور جانی نقصان میں 21 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ زخمیوں کی تعداد میں 24 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

Comments are closed.