بات چیت کیلئے تیارمگربات ان سے ہوگی جن کے پاس فیصلے کی قابلیت ہے‘بانی پی ٹی آئی
راولپنڈی (آن لائن)بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں کبھی بات چیت سے انکار نہیں کیا ‘بات ان سے کریں گے جن کے پاس فیصلہ کرنے کی قابلیت ہے ‘اگر میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بن گیا تو یہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔ اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں کبھی بات چیت سے انکار نہیں کیا ‘بات ان سے کریں گے جن کے پاس فیصلہ کرنے کی قابلیت ہے ‘محمود خان اچکزئی کو بات کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے وہ ان سے کوئی آفر لے کر ائے گا تو بات آگے بڑھے گی ‘اگر ہم ان سے بات کریں گے تو مطلب ہم نے فراڈ الیکشن قبول کر لیا ۔انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں بات کرو ان سے کیا بات کریں جن کو خوف ہے کہ الیکشن کھل گیا تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی ‘گنیز بک میں 2 ریکارڈ درج کیے جائیں گے ۔گنیز بک میں ایک یہ ریکارڈ درج ہوگا کہ انہوں نے ووٹ کو عزت دیتے دیتے بوٹ کو عزت دی‘گنیز بک میں دوسرا ریکارڈ یہ درج ہوگا کہ نواز شریف نے4 چیفس کو ساتھ ملایا پھربھی الیکشن ہار گیا۔نواز شریف اڑھائی سال تک ووٹ کو عزت دو کا کہتے رہے فوج اور مارشل لاؤں پر تنقید کرتے رہے۔
دوسری پارٹی کو میچ کھیلنے ہی نہیں دیا گیا۔نواز شریف کو جتانے کیلئے 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے۔نواز شریف کو یاسمین پیٹن کی رپورٹ ہے یاسمین راشد سے جتانے کیلئے نواز شریف کو 74 ہزار ووٹ ڈلوائے گئے۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ جب بات چیت کا سنتے ہیں9مئی کا شور مچانا شروع کر دیتے ہیں9 مئی ان کی انشورنس پالیسی ہے‘9مئی اگر کھل گیا اور وہ اسے بھول گئے تو حکومت کے ساتھ ساتھ ان کی سیاست بھی ختم ہو جائے گی‘خواجہ آصف سے زیادہ کسی کو فوج کو برا بھلا کہتے نہیں سنا ‘حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کا پہلی دفعہ احسن اقبال سے سنا تھا‘سٹیٹ ود ان سٹیٹ کا بیان بھی احسن اقبال نے ہی دیا تھا ‘احسن اقبال نے ہی کہا تھا کہ ملک میں میانمار بننے جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بن گیا تو یہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔اگر چانسلر نہ بن سکا تو بھی کوئی بات نہیں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی مزاکرات کی بات ہوتی ہے انہیں نو مئی کا شور مچاتے ہیں۔نو مئی انکی انشورنس پالیسی ہے۔نو مئی ختم ہوا تو انکی حکومت اور سیاست دونوں ختم ہوجائینگی۔
جمہوریت کی باتیں کرنے والے بوٹ کے آگے لیٹ گئے ہیں۔نو مئی کی تحقیقات کرنی ہے تو اسکے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔مجھے اغواء کرنے کا جس نے حکم دیا اور جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کی نو مئی کی سازش اسی نے کی۔انہوں نے کہا کہ بات چل رہی ہے مذاکرات کی محمود خان اچکزئی کی حکومت سے۔بات چیت کیلئے ہمیشہ تیار ہیں۔بات انکے ساتھ ہوگی جو با اختیار ہیں جو انکو لیکر آئے ہیں۔ان سے بات کرنا الیکشن میں انکے ڈاکے کو تسلیم کرنا ہے۔ہمارے 8 ستمبر کے جلسے کے تین مقاصد ہیں.ایک مقصد چوری کیا ہوا مینڈیٹ پی ٹی آئی کو واپس کیا جائے۔دوسرا مقصد قبضہ گروپ سے ملک کو حقیقی آزادی دلانی ہے۔تیسرا مقصد ملک میں آزاد عدلیہ ہے۔قاضی فائز عیسیٰ کو لانے کیلئے عدلیہ پر حملہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ میں اس مقام تک کوئی نہیں پہنچا جہاں میں پہنچا ہوں۔پاکستان میں سب سے بڑا philanthropist میں ہوں۔ہم نے دو ہسپتال بنائے، دو یونیورسٹیاں بنائی ایک یونیورسٹی بن رہی ہے۔
Comments are closed.