ہم نے مناسب سمجھا کہ ہم ساری پارٹیوں سے مشورہ کر کے آل پارٹیز کانفرنس بلاییں،ساری پارٹیز کو فیصلہ کرنا چاہئیے کہ ایور گرین خاندانوں کو اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہئیے ،محمود خان اچکزئی

اسلام آباد:محمود خان اچکزائی نے کہا ہے کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کی تمام جماعتیں آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں، ہم نے مناسب سمجھا کہ ہم ساری پارٹیوں سے مشورہ کر کے آل پارٹیز کانفرنس بلاییں، اس حوالے سے ہماری کمیٹی بنائی گئی ئے جو کل سے کام شروع کرے گی، اگر ہمارے مطالبات نہیں مانے گئے تو ہم ملک گیر احتجاج کریں گے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ آل پارٹیز کانفرنس پر مان جاتے ہیں تو ہمیں احتجاج کی نوبت تک نہیں جانا پڑے گا، اسد قئصر کو سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، ہم بے حس ہو گئے ہیں، بلوچستان میں کیا حالات چل رہے ہیں اور ہم ہنس رہے ہیں،ساری پارٹیز کو فیصلہ کرنا چاہئیے کہ ایور گرین خاندانوں کو اٹھا کر باہر پھینک دینا چاہئیے، ہمارے ساتھ جتنی بھی جماعتیں ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ آئین کی بالادستی ہو ، اے پی سی بنانے کے لئے ہماری کمیٹی لوگوں سے ملے گی۔آج ہمارے اجلاس پر بلوچستان کے ایشو کر غور کیا گیا ہے، لطیف کھوسہ نے کہاکہ مہنگائی کا جو سونامی عوام پر گرایا گیا ہے اور جو آئین میں ترمیم کی بات کی جارہی ہے اس سے عوام میں تشویش پیدا ہوْرہی ہے، آئین میں یہ ترمیم نہیں کر سکتے کیوں کہ ان کے پاس دو تھائی نہیں ہے

،اس لئے یہ باتیں بند کر دیں،مبارکثانی کیس میں تین تین فیصلے کئے گئے،مبارک ثانی کیس میں غلط فیصلہ کیا گیا تھا، ہمیں اس کیس کی وجہ سے اپنا جلسہ ملتوی کرنا پڑا تھا،8 ستمبر کو اٹل ہے کہ جلسہ ہو گا،پاکستان کی عوام عمران خان کے ساتھ اپنی محبت دکھائے گی،صاحبزادہ حامد رضا کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی ئے جس کا میں بھی ممبر ہوں،آل پارٹیز کانفرنس کے لئے رابطہ کمیٹی بنائی گئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آل پرٹیز کانفرنس کر کے مسائل کا حل نکالیں،ہم نے پاکستان کو بچانا ہے اور رول اف لا کو لانا ہے، لطیف کھوسہ نے کہاکہ فارم 47 کی پیدوار حکومت نے ملک بھر میں فسطائیت پھیلا رکھی ہے ۔یہ لوگ آئین میں ترامیم کی باتیں کرتے ہیں حالانکہ یہ ایسا نہیں کر سکتے ہیں ۔مبارک ثانی کے مقدمہ میں چیف جسٹس نے تین تین فیصلے کیے ہیں ۔یہ غلط فیصلے کرتے ہیں بعد میں دباوٴ سے بدل لیتے ہیں ۔ہمیں عدلیہ کے فیصلے کی وجہ سے 22 اگست کا جلسہ ملتوی کرنا پڑا ۔8 ستمبر کو جلسہ ہو گا اور قوم دیکھے گی کہ یہ جلسہ کتنا کامیاب ہوتا ہے۔روف حسن نے کہاکہ 8 ستمبر کو ہونے والا جلسہ ہر صورت میں ہو گا، 22 ستمبر کو لاہور میں جلسہ ہو گا ۔12 ستمبر کو کرک میں جلسہ ہو گا،12 اپوزیشن جماعتوں کی نمائندگی ہو گی۔آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا، بلوچستان میں دہشت گردی کے معاملے پر بات کی جائے گی ۔کمیٹی پورے ملک میں دورے کرے گی، ایک ہفتے میں سفارشات پیش کی جائیں گی ۔اختر مینگل کا استعفی الارمنگ صورتحال ہے،پی ٹی آئی وفد نے اختر مینگل سے ملاقات کی تھی ۔اختر مینگل نے وعدہ کیا ہے کہ پی ٹی آئی وفد کی بات مانی جائے گی ۔پی ٹی آئی وفد کچھ دیر بعد دوبارہ اختر مینگل سے ملاقات کریں گے۔اپوزیشن رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جو ہو رہا ہے، اْس پر سنجیدگی سے بیٹھنا چاہیے۔ اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسد قیصر نے کہا کہ ہم اسپیکر سے ملیں گے

، انہیں کہیں گے بلوچستان سے متعلق اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ناراض بلوچ بھائیوں کے تحفظات کو دور کرنا چاہیے، اسمبلی کے فلور پر میں نے بلوچستان پر بات کی، حکومت نے دلچسپی نہیں دکھائی۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ اختر مینگل نے مایوس ہوکر قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیا، اگر سیاسی لوگ ایسے مایوس ہوں گے تو اس ایوان کا کوئی فائدہ نہیں۔اْن کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو ہورہا ہے اس پر سنجیدگی سے بیٹھنا چاہیے، سردار اختر مینگل کا استعفیٰ پارلیمان کے لیے بہت تشویش کی بات ہے۔اپوزیشن رہنما نے یہ بھی کہا کہ اپنی انا سے باہر نکلیں، جو کچھ بلوچستان میں ہورہا ہے اس پر سنجیدگی سے غور کریں۔ اب ہم پورے ملک میں نکل رہے ہیں، جلسے ہوں گے اور وکلاء سے خطاب ہوں گے۔

Comments are closed.