سینٹ میں وفاقی دارالحکومت میں پرامن جلسوں کے انعقاد کے حوالے سے بل کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد(آن لائن) ایوان بالا نے وفاقی دارالحکومت میں پرامن جلسوں کے انعقاد کے حوالے سے بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا، اپوزیشن کی جانب سے بل کی شدید مخالفت کی گئی ، سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ بل کی منظوری کا مقصد پی ٹی آئی کو جلسے سے روکنا ہے،اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ بل بددیانتی پر مبنی ہے کل حکومت اس کا نشانہ بنے گی۔جمعرات کو ایوان بالا میں سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے وفاقی دارالحکومت میں پرامن جلسوں کی اجازت دینے کے حوالے سے بل پیش کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ پرائیویٹ ممبر بل پیش کرنے کا جو طریقہ کار ہے اس کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر قوانین میں کوئی مشکل ہو تو اس کی وضاحت کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے مطابق اس بل کا مقصد پی ٹی آئی کے جلسے کو روکنا ہے اس ایوان کو بتایا جائے کہ ایسی کیا مشکل پیش آئی ہے کہ عجلت میں بل پیش کیا جارہا ہے اس موقع پر سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ اس بل کا پی ٹی آئی کے جلسے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت بھی اسلام آباد ایک پنجرہ بنا ہوا ہے اور کوئی بھی شہری اپنی ڈیوٹی کیلئے نہیں جاسکتا ‘چاروں صوبوں میں قوانین موجود ہیں مگر وفاقی دارلحکومت میں کوئی قانون نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم انتظامیہ کی اندھی طاقت کو ریگولیٹ کر رہے ہیں اس شہر میں 25لاکھ کی آبادی ہے اس کے حقوق مسخ ہورہے ہیں اسی وجہ سے ہمیں جلدی ہے اس موقع پر وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ جو قوانین بنائے گئے ہیں اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے انہوں نے کہاکہ یہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ کس وقت رولز کو معطل کرنے کا مطالبہ کرے اور یہ پریکٹس وقتاً فوقتاً ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ آج جب اس بل کو پاس کیا جائے تو یہ فوری طور پر نافذ العمل نہیں گا بلکہ قومی اسمبلی میں جائے گاانہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو جلسے کی جو اجازت ضلعی انتظامیہ نے دی ہے اس پر عمل کیا جائے گا اپوزیشن لیڈر سینٹر شبلی فراز نے کہاکہ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ اس بل کو عجلت میں لانے کی کیا جلدی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت یاد رکھے کہ یہ قوانین کل ان کے خلاف بھی استعمال ہونگے انہوں نے کہاکہ ہم نے کبھی بھی اس شہر کو محصور نہیں کیا ہے اس وقت تو کوئی جلسہ نہیں ہے تو اس شہر کو کیوں محصور کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ہماری پارٹی کو تحریری طور پر جلسے کی اجازت ملی ہے اور یہ اجازت کسی ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق ملتی ہے انہوں نے کہاکہ جب ہم جلسے کی تیاریاں کرتے ہیں تو اخری وقت میں جلسے کو کینسل کرکے پی ٹی آئی کے لاکھوں کارکنوں کو مشکلات میں ڈالتے ہیں انہوں نے کہاکہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ حکومت اسلام آباد یا لاہور میں جلسے کرالے عوام ان کو ٹماٹر مارے گی انہوں نے کہاکہ وزیر قانون نے غیر ارادی طو رپر باتیں کرتے ہیں اس ایوان میں ججز کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے بل پیش کیا گیا جس پر قومی اسمبلی میں تو حکومت کو حزیمت اٹھانی پڑی انہوں نے کہاکہ حکومت کے علاوہ کوئی بھی منی بل پیش نہیں کرسکتا ہے بتائیں کہ قومی اسمبلی میں کیوں خاموش رہے ہیں انہوں نے کہاکہ وزیر قانون بڑے اعتماد کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں وزیر قانون ہمیں ایسی وضاحت دیں جو قابل قبول ہوں وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ منی بل کے زریعے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا تھا اور سپریم کورٹ میں اس قانون سازی کو ختم کیا گیا انہوں نے کہاکہ یہ منی بل نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہر بل میں اخراجات ہوتے ہیں اور اس کو منی بل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ ججز کی تعداد میں اضافے کا بل اس قانون سے متصادم نہیں ہے اور قومی اسمبلی میں بھی یہی جواب دیا تھا اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ وزیر قانون مختلف معاملات کو آپس میں مکس کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ پر سب ذمہ داریاں عائد ہیں پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر آئین کے برخلاف بل پیش نہیں کیا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ سینیٹر محسن عزیز کا بل اخراجات کا نہیں بلکہ اسٹیٹ بنک کیلئے قرضوں کا طریقہ کار وضح کرنا تھا انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں ایک غلط بل پیش کیا گیا ہے سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ اس بل کے حوالے سے ایوان کی رائے لیں اس موقع پر چیرمین سینیٹ نے بل پر اراکین سے شق وار منظوری لینے کے بعد بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.