کرکٹ ٹیم کی شرمناک کارکردگی، سینٹ ارکان کا چیئرمین پی سی بی سے استعفے کا مطالبہ

اسلام آباد(آن لائن)ایوان بالا میں اراکین نے پاکستان کرکٹ کی شرمناک کارکردگی پر چیئرمین پی سی بی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا سینیٹر علی ظفر کہتے ہیں کہ کرکٹ بورڈ کے ممبران کا کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے ایسے لوگ ادارے کو تباہ کردیتے ہیں ۔جمعرات کو سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر علی ظفر نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہاکہ آج کل کھیلوں میں جیتنے والے ملک کے ہیروز ہوتے ہیں انہوں نے کہاکہ ملک میں ہاکی کا میدان سب کو یاد ہے انہوں نے کہاکہ ہماری ہاکی کی گیم اب کہاں گئی ہے اور سکواش کی گیم کہاں رہ گئی ہے اب صرف کرکٹ رہ گیا تھا جس میں ہماری ٹیم جیتتی تھی مگر اب یہ حال ہے کہ بنگلہ دیش سے شرمناک شکست ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت قوم ایک سکتے میں چلی گئی ہے کرکٹ تباہ ہوچکی ہے انہوں نے کہاکہ ادارے کا دارومدار سربراہ پر ہوتا ہے اگر سربراہ نااہل ہو توادارہ تباہ ہوجاتا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ممبران میں ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کو کرکٹ کا علم ہو انہوں نے کہاکہ جو تباہی کرکٹ کے میدان میں ہورہی ہے اس کیوجہ محسن نقوی جیسا بندہ ہے جو کرکٹ کو سرجری کرکے ٹھیک کرنا چاہتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ سرجری نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ ہمارے پاس ٹیلنٹ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ آج ساری قوم کی آواز ہے کہ چیئرمین پی سی بی استعفی دیں اور ایک ماہر بندے کو لیکر آئیں اس موقع پر پرایذائیڈنگ سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ یہ بہت اہم معاملہ ہے اس پر ایوان میں بحث ہونی چاہیے کھیل کا کسی حکومت یا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ہمیں اس پر سیر حاصل بحث کرنی چاہیے سینیٹر منظور کاکڑ نے کہاکہ کرکٹ کے کھلاڑیوں پر بہت زیادہ اخراجات ہوتے ہیں مگر نتیجہ صفر ہے کیونکہ کرکٹ ٹیم میں گروپنگ ہے انہوں نے کہاکہ چیئرمین پی سی بی کو فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے انہوں نے کہاکہ بلوچستان یونیورسٹی میں گذشتہ ایک ماہ سے مسائل درپیش ہیں ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے سینیٹر نسیمہ احسان نے کہاکہ اگر بلوچستان میں شفاف انتخابات ہوتے تو بی این پی کو اکثریت ملتی بلوچستان میں سب سے زیادہ ووٹ بھی بی این پی کو ملے ہیں انہوں نے کہاکہ اس وقت اسمبلی بااختیار نہیں ہے کیونکہ بلوچستان کے مسائل پر سیر حاصل بحث نہیں ہورہی ہے سنیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ پاکستان میں ایک سکول میں جنسی زیادتی کا کیس سامنے آیا ہے یہ درندے ہیں جو معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ طلم کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ میری تجویز ہے کہ بچوں بچیوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کے معاملے پر حکومت کو ایف آئی آر درج کرنی چاہیے اور ایسے درندوں کو سخت ترین سزا دی جائے سینیٹر کامران مرتضی نے کہاکہ اگر ملک میں بڑے بڑے عہدے جرنیلوں کی ریٹائرمنٹ کیلئے خالی رکھے جائیں تو اس سے عوا م کا رویہ ایک ادارے کے حوالے سے بہت زیادہ خراب ہوجائے گا انہوں نے کہاکہ میری تجویز ہے کہ اس ادارے سے ریٹائرڈ ہونے والوں کو بھی فوج میں لیفٹنٹ بنایا جائے سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہاکہ پی آئی اے کی کئی شہروں کیلئے فلائٹس بند کردی گئی ہیں اس معاملے کوکمیٹی کے سپرد کیا جائے سینیٹر ڈاکٹر زرقہ سہروردی نے کہاکہ سندھ حکومت کی جانب سے ڈبل کیبن گاڑیاں خریدنے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ اگر بنگلہ دیش کو سیریز تحفے میں دینی تھی تو پورے اسلام آباد کو یرغمال بنانے کی کیا ضرورت تھی انہوں نے کہاکہ وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل ایک ایس ایچ او کی مار ہے میری تجویز ہے کہ ملک کے حالات ٹھیک کرنے کیلئے 40ایس ایچ اور تعینات کئے جائیں سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے کہاکہ وزیر داخلہ اس ایوان کے رکن ہیں ہمیں اس کی غیر موجودگی میں ان کے حوالے سے باتیں نہیں کرنی چاہیے۔

Comments are closed.