جیل کی چکی میں مر جاؤں گا مگر وقت کے یزید کی غلامی قبول نہیں کروں گا ‘بانی پی ٹی آئی
راولپنڈی (آن لائن) تحریک انصاف کے بانی چیئرمین نے کہا ہے کہ جیل کی چکی میں مر جاؤں گا مگر وقت کے یزید کی غلامی قبول نہیں کروں گا‘ 8 ستمبر کو قوم اپنی آزادی کے لئے باہر نکلے یہ آپ کو غلام بنا رہے ہیں جب بھی ہماری حکومت آئے گی سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات کرائیں گے جس کا پلان بنا رکھا ہے۔ گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں القادر ٹرسٹ ریفرنس کی سماعت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کے ساتھ ڈیزاسٹر ہوا اور محسن نقوی کا نام اخبارات میں نہیں چھپا دنیا میں ہمارا مذاق ہو رہا ہے بنگلہ دیش نے ہمیں پھینٹا لگا دیا ہے اس سے نیچے ہماری کرکٹ نہیں گر سکتی اکتوبر 21 میں ہم نے بھارت کو 10 وکٹوں سے ہرایا انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کے پاس کوئی تجربہ نہیں اس کے پاس کوئی قابلیت نہیں ہے ان کو اوپر لایا گیا جنہیں چیئرمین پی سی بی بننے کا شوق یا ان کی hobby تھی انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کی صرف یہ قابلیت ہے کہ اسے جنرل عاصم منیر پسند کرتا ہے اس مرتبہ بھی ملک میں تاریخ کی سب سے کم سرمایہ کاری ائی حکمران قرض پر قرض لئے جا رہے ہیں جس سے مہنگائی کا نیا طوفان انے والا ہے اوپر بیٹھ کر فیصلہ کرنے والوں کے اربوں ڈالر بیرون ممالک میں ہیں میں آج بتا رہا ہوں ملک انقلاب کی جانب جا رہا ہے حالانکہ انہیں 8 فروری کے خاموش انقلاب سے جاگ جانا چاہئے تھا اب یہ سپریم کورٹ کا بیڑا غرق کرنے لگے ہیں کہ الیکشن فراڈ سامنے نہ آجائے دبئی میں پاکستانیوں نے گزشتہ اڑھائی سال میں تاریخی سرمایہ کاری کی فیصلہ سازوں کے پاس کوئی عقل نہیں اس سے احمقانہ فیصلے نہیں دیکھے فیصلہ کرنے والوں کے پاس نہ عقل ہے اور نہ ان کے پاس اخلاقیات ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد 75 سال کی عورت اور کینسر کی مریضہ ہے اسے جیل میں رکھا ہوا ہے مجھے سبق سکھانے کے لیے 7 ماہ سے بشری بی بی کو جیل میں رکھا ہوا ہے مجھے بتایا جا رہا ہے کہ طاقتور کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات کیسے کی؟
یہ مجھے بتا رہے ہیں کہ سائفر کے سامنے کیوں کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا جیل کی چکی میں مر جاؤں گا مگر وقت کے یزید کی غلامی قبول نہیں کروں گا 8 ستمبر کو قوم اپنی ازادی کے لئے باہر نکلے یہ اپ کو غلام بنا رہے ہیں اب ججوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں سرگودہا کے جج کو اٹھا کر لے گئے کبھی ایسا ظلم نہیں دیکھا جو آج کیا جا رہا ہے بلوچستان میں کرائسز بڑھتا جا رہا ہے اگر کے پی میں پی ٹی ائی نہ ہوتی تو وہاں بھی اتنا ہی کرائسز ہوتا اس کا حل ڈنڈے اور بندوقوں میں نہیں ہے حل یہ ہے کہ ان کے منتخب لوگوں کو آگے آنے دیں بلوچستان میں پتلے بٹھانے سے مسائل بڑھ گئے ہیں حالات ہاتھ سے نکل رہے ہیں اختر مینگل بالکل درست کہہ رہا ہے یہ بہت خطرناک ہو رہا ہے ہماری آنکھوں کے سامنے ایسٹ پاکستان بنا میں اس وقت ڈھاکہ میں انڈر 19 کرکٹ کھیل رہا تھا اس کا حل یہ ہے کہ بلوچستان لوکل باڈی الیکشن کرائیں ‘اوپر والوں کا پیسہ نیچے ہی نہیں جاتا وہاں غربت ہے ملک بھر میں حقیقی بلدیاتی انتخابات کی ضرورت ہے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کو جو رقم ملتی ہیوہ نیچے پہنچتی ہی نہیں انشائاللہ جب بھی ہماری حکومت ائے گی سب سے پہلے لوکل باڈیز الیکشن کرائیں گے جس کا پلان بنا رکھا ہے اس وقت ملک میں ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ہمیں کہتے تھے کہ ٹی ٹی ٹی پی ہماری وجہ سے ہے تو پھر بی ایل اے بلوچستان میں کس کی وجہ سے ہے اب یہ کراس بارڈر دہشت گردی کا کہہ رہے ہیں آپ نے وہاں جا کر دہشتگردوں، ٹی ٹی پی پر حملے بھی کئے ہیں ہشت گردی ختم کرنے کے لئے تین سمت ہوتی ہیں انٹیلیجنس، ڈائیلاگ اور پھر اپریشن آپ 2004 سے دہشت گردی ختم کرنے کے لئے آپریشن کر رہے ہیں اب تک کتنا فرق پڑا ہے خفیہ اداروں کو ملک کی بڑی جماعت پی ٹی آئی ختم کرنے پر لگا دیا گیا خفیہ اداروں کا کام دہشت گردی ختم کرنا ہے۔
Comments are closed.