سپیکر نے ہمارے ارکان کو ایوان میں لانے کا حکم دیا مگرعمل نہیں کیا گیا، علی محمد خان
اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس میں سنی اتحاد کونسل کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ ہمارے اراکین کو آج یہاں ایوان میں لانا تھا سپیکر نے کل پروڈکشن آرڈر جاری کیے تھے پرسوں رات یہاں پر نقاب پوش لوگ کالی گاڑیوں میں آئے اور ہمارے اراکین کو اٹھا کے لے گئے اس معاملے پر پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے بات کی سپیکر چیمبر میں آئی جی اسلام آباد کو بلایا گیاہم نے پروڈکشن آرڈرز کی گذارش کی تو سپیکر نے زبانی آرڈرز جاری کیے ابھی تک سپیکر کے آرڈرز پر اسلام آباد پولیس نے عمل نہیں کیا‘ بات ہوئی کہ پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا انہوں نے کہا کہ سپیکر نے کہا کہ استحقاق سے آگے جائیں گے اور ایف آئی آر کریں گے ‘کسی نے بھاگ کر ایوان میں پناہ نہیں لی ہماری استدعا ہے کہ اراکین کو اجلاس میں پیش کریں یہ پارلیمان کی بے توقیری ہوئی اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں
۔اس پر وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ پورا ایوان سپیکر کے پیچھے کھڑا ہے ‘ہم نے اسد قیصر کا دور دیکھا ہے یہ ایوان اس گواہ ہے‘کچھ ثبوت آپ کے زمانے بھی آئے کہ پارلیمنٹ کے اندر سے کسی کو نہیں اٹھایا۔وزیر اطلاعات کی بات پر پی ٹی آئی اراکین نے سخت احتجاج کیا یہی مسئلہ ہے کہ سننے کا حوصلہ نہیں ہے سنی اتحاد کونسل کے رہنما و چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پرسوں جو ہوا امید ہے آئندہ ایسے نہیں ہوگا یہ ایوان کیلئے سیاہ دن تھا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں نقاب پوش ایوان کے اندر آئے اور دروازے کھولے گئے ایوان کی چابیاں کس کے پاس تھیں میں ایوان کے باہر سے گرفتار نہیں ہوا اہلکار باہر تک میرے ساتھ ساتھ چلتے رہے لگتا ہے یہ حکومت ایک جلسے کی مار ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارا ارادہ چھ بجے سے جلسہ پہلے ختم کرنے کا تھا سارے راستے بند کیے گئے تھے ہر جگہ کنٹینرز تھے میرے بارے میں کہا کہ میرے ساتھ پستول تھامیں نے زندگی میں کسی کو دھکا دیا نہ کسی نے مجھے دھکا دیا ہمیشہ جمہوریت کی خاطر مذاکرات کی بات کی ‘ایوان کے حق پر بڑا ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ سیمابیہ طاہر کے خلاف پرچہ کیا گیا آپ کے اراکین اور وفاقی وزیر کے خلاف خیبرپختونخوا میں پرچے کرائیں تو کیا ہوگا۔
Comments are closed.