خارجہ پالیسی بنانا وفاق کا کام ، صوبے کا نہیں ، سینیٹر عرفان صدیقی

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹر عرفان صدیقی نے افغانستان سے براہ راست مذاکرات بارے وزیر اعلی امین گنڈا پو ر کے بیان پر انھیں کڑے ہا تھوں لیتے ہوے کہا ہے کہ وہ دیگر معاملات پر اپنا گنڈاسا ضرور استعمال کریں لیکن خارجہ امو ر کو ہاتھ میں لینے سے گریز کریں بصورت دیگر انھیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ امور خارجہ کا شعبہ وفاقی ہے صوبائی نہیں وفاق کی اجازت کے بغیر کوئی صوبہ کسی ملک سے مذاکرات نہیں کرسکتا ۔ سینٹ میں کے پی کے وزیر اعلی کے اقدام کا محاسبہ کریں گے ۔ پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی ہو رہی ہے ۔

علی امین نے اشتعال میں آکر افغان قونصل جنرل سے ملاقات کی ۔ پریس ریلیز بھی جاری نہیں ہوئی کہ کن امور پر بات ہوئی ہے ۔ یہ خوفناک روایت قائم کرنے جا رہے ہیں ۔ امورخارجہ وفاق کا شعبہ ہے ۔ وفاق سے اجازت لئے بغیر کوئی صوبہ کسی ملک سے مذاکرات نہیں کر سکتا ۔ افغانستان کے ساتھ جو بھی پالیسی ہو گی وہ وفاق طے کرے گا ۔ گنڈا پور دیگر تمام معاملات پر جرور بولیں لیکن سلامتی کے معاملے پر اپنا گنڈاسا نہ چلائیں بصورت دیگر سنگین نتائج کے لئے تیار رئیں ۔ انہوں نے کہا کہ علی امین کے اس اقدام کا سینٹ میں محاسبہ کیا جائے گا ۔

اسمبلی میں بھی اس معاملے کو اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی کے بارے میں کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتے حکومت ملکی دفاع کے لئے اپنا اقدام اٹھائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے ملک کے ساتھ کھلواڑ کرنے جا رہے ہیں ان لوگوں نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے ۔ آئی ایم ایف کو معائدہ روکنے کے لئے خط لکھا ، سائفر کے ساتھ کھیل کر خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچایا ۔ اور اب انہوں نے ملک کو نقصان پہنچانے کا نیا فتنہ کھڑا کر دیا ہے ۔

Comments are closed.