چھوٹے، درمیانے درجے کے کاروبار کی برآمدات کو توسیع دینا معیشت کے لیے نا گزیر ہے، وزیراعظم
اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی برآمدات کو توسیع دینا ملکی معیشت کے لیے نا گزیر ہے،جمعہ کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کی سٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا ،اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کے حوالے سے حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی ،اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے بین الاقوامی معیار کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی، اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو منافع بخش بنانے، ان کی آسان اقساط پر قرضوں تک رسائی، ایس ایم ایز کے ذریعے برآمدات میں اضافے، خواتین کو کاروبار میں سہولت اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگی کے حوالے سے حکمت عملی پر بریفنگ دی گئی،ریسائیکل کیے جانے والے مواد سے ٹیکسٹایل مصنوعات بنانے والی ٹیکنالوجی کے تعارف سے موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کیا جائے گا،
نئے کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان اقساط پر قرضوں کے لیے حکومت معاونت کرے گی،سمیڈا کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے تمام پالیسیوں کی تشکیل تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر کی جائے گی،اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور آحد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار اور قومی غزائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسن افضل، گورنر سٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر، صدر ایف پی سی سی ائی اور سٹیئرنگ کمیٹی کے دیگر ارکان شریک تھے۔وزیراعظم کی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو مزید منافع بخش بنانے کے لیے ان کی استعداد کار میں اضافے کے لیے اقدامات لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایس سیم ای کا شعبہ قومی ترقی کا انجن ہے
، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی برآمدات کو توسیع دینا ملکی معیشت کے لیے نا گزیر ہے، سمیڈا کے بورڈ کو فی الفور فعال کیا جائے، بڑے نجی کاروباری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ساتھ لے کر چلیں، ہماری آبادی کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور ملکی معیشت میں خواتین کا کردار انتہائی اہم ہے، ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سے متعلق تمام فیصلوں میں خواتین کاروباری افراد کو خصوصی طور پر شامل کیا جائے، برآمدات کے لیے تیار کی جانے والی تمام مصنوعات بین الاقوامی معیارات پر لائے جائیں۔
Comments are closed.