آج تمام سیاست اور معاملات آئین کے دائرہ کار سے باہر چل رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی
اسلام آباد(آن لائن)سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آج تمام سیاست اور معاملات آئین کے دائرہ کار سے باہر چل رہے ہیں،2024ء کا الیکشن نہ لڑنا عوام علاقہ سے 35سال کی رفاقت کے باعث بہت مشکل فیصلہ تھا ،کرپٹ سسٹم کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا ،نواز شریف سے بہت پرانا رشتہ ہے جو مجھے بہت عزیز ہے ،سیاست میں کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو ذاتی مفادات سے بڑھ کر ہوتی ہیں ، آج پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں ان کی کوئی عزت نہیں ہے ان میں سے اکثریت الیکشن ہاری ہوئی ہے اللہ نے مجھے بچا لیا،ملک کے مسائل کا واحد حل اتفاق ہے ، تمام سیاستدان ملک اور عوام کے لئے ایک ٹیبل پر بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کریں ،موجودہ حالات میں وزیراعظم کی کرسی پرکبھی نہ بیٹھتا جس طرح آج شہباز شریف بیٹھے ہوئے ہیں ”۔ آن لائن“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ، آج ہر ادارہ آئین کو توڑ رہا ہے اپنی اپنی حدود سے تجاوز کیا جارہا ہے تمام سیاست اور معاملات آئین کے دائرہ کار سے باہر چل رہے ہیں جو ملک کے لئے خطرناک ہیں ان کا حل تلاش کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ 2024ء کا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ ایک بہت ہی مشکل فیصلہ تھا جس کی ایک وجہ عوام علاقہ کے ساتھ 35سال کا رشتہ تھا ان سالوں میں متعددبار الیکشن لڑا اور عوام علاقہ کی ہمیشہ سے میرے ساتھ خصوصی شفقت رہی ہے اس بناء پر میرے اوپر عوام علاقہ کا بہت دباؤ تھا کہ آپ الیکشن ضرور لڑیں چاہیے آزاد حیثیت سے ہی لڑیں مگر الیکشن میں ضرور حصہ لیں مگر میں نے انہیں کہا کہ اس وقت صورتحال بہت خراب ہے سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے میں اس نظام کا حصہ نہیں بننا چاہتا یہ ان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے میری بات کو سمجھا اور مجھے حوصلہ دیا ۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میری 35سال سے نواز شریف کے ساتھ رفاقت ہے یہ رشتہ مجھے بڑا عزیز ہے حالانکہ یہ فیصلہ میرے لئے بہت مشکل تھا سیاست میں کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو ذاتی معاملات سے بڑھ کر ہوتی ہیں میں ووٹ کو عزت دو کا بہت بڑا حامی تھا لیکن وہ پیچھے ہٹ گئے مسلم لیگ (ن) نے ووٹ کو عزت دو کے راستے سے خود ہی علیحدہ ہوگئی ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اللہ کا کرم ہے کہ میں اس پارلیمان سے باہر ہوں جو پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں ان کی کوئی عزت نہیں ہے ان میں سے اکثریت الیکشن ہاری ہوئی ہے اللہ نے مجھے بچا لیا کیونکہ میں پہلے اسی فہرست میں بیٹھا ہوا تھا یہ پاکستان کے عوام کی محبت ہے کہ مجھے وزارت عظمیٰ کے عہدے تک پہنچایا جو آج مجھے عزت ملی ہے وہ کسی عہدے میں نہیں ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک نازک دور سے ہم جیسے سیاستدان گزارتے ہیں جب تک الیکشن چوری کرتے رہیں گئے ملک نازک دور سے گزرتا رہے گا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2018ء کاالیکشن ڈاکہ تھا اور 2024ء کاالیکشن چوری تھا آئینی ترمیم کے حوالے سے سوال کے جوبا میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں اس شخص سے ملنا چاہتا ہوں جس نے یہ آئینی ترمیم تیار کی اور پڑھی ۔انہوں نے کہا کہ میں حکومتی وزراء سے ملا ہوں اور اپوزیشن ارکان سے بھی ملا ہوں سب آئینی ترمیم کے لیے ووٹ دینے کیلئے تیار تھے لیکن ان کے کسی کے پاس مسودہ نہیں تھا ۔
مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میں نے پیغام بھجوایا تھا جب آئینی ترمیم سے فارغ ہوجائیں تو آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں لیکن مولانا فضل الرحمان نے اسی رات جس رات دیگر اپوزیشن ارکان ملاقات کررہے تھے مجھے پیغام بھجوایا کہ ابھی آجائیں میں نے کہا ٹھیک ہے مولانا رات دیر سے سوتے ہیں اسی لئے رات گئے ان کے گھر پہنچ گیا اور ان سے ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تاہم آئینی ترمیم پر کوئی خاص بات نہیں ہوئی میں نے ان سے کسی ایشو پر مشاورت کرنا تھی جو ایک گھنٹہ تک جاری رہی میرا ان کو مشورہ یہی تھا کہ تمام معاملے پر عوام کو سامنے رکھا جائے یہ ملک کے لئے بہتر تھا کیونکہ موجودہ حکومت آج ہے کل نہیں ہوگی ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی حمایت کے بغیر آئینی ترامیم نہیں لائی جاسکتی اگرآئینی ترامیم آتی تو نواز شریف خود پارلیمنٹ میں جا کر ووٹ کاسٹ کرتے ۔شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے مسائل کا واحد حل اتفاق ہے اگر نااتفاقی ہوگی تو ملک نہیں چلے گا ملک کی ترقی نہیں ہوگی معیشت نہیں چلے گی ملک آگے نہیں بڑھے گا تمام جماعتوں کے سربراہان ایک ٹیبل پر بیٹھ جائیں اور ملکی مسائل کے حوالے سے ایک متفقہ لائحہ عمل پر اتفاق کریں یہی لیڈر شپ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وزیراعظم کی کرسی پرکبھی نہ بیٹھتا جس طرح آج شہباز شریف بیٹھے ہوئے ہیں
Comments are closed.