قانون اور آئین میں اگر آئینی عدالتوں کی گجائش ہے تو یہ ضرور ہونی چاہیے، وکلا کی رائے

اسلام آباد(آن لائن)26ویں آئینی ترامیم پر وکلا نے رائے دی ہے کہ قانون اور آئین میں اگر آئینی عدالتوں کی گجائش ہے تو یہ ضرور ہونی چاہیے، سابقہ ایڈووکیٹ جنرل اور صدر ڈسٹرکٹ بارایڈووکیٹ واجد گیلانی نے کہا کہ آئینی ترامیم حکومت کا حق ہے، تاہم اس سے کسی بنیادی حقوق کی پامالی نہیں ہونی چاہئے، وکلاء کا کہنا تھا کہ قانون اور آئین میں اگر آئینی عدالتوں کی گجائش ہے تو یہ ضرور ہونی چاہیے، دنیا کے کئی ممالک شمول ترکی میں آئینی عدالتیں موجود ہیں۔ واجد گیلانی نے کہا کہ آئینی ترامیم حکومت کا حق ہے

، اہم امر یہ ہے کہ اس سے کسی بنیادی حقوق کی پامالی نہ ہو۔ سابق صدر ڈسٹرکٹ کورٹ بارایڈووکیٹ فرید حسین کیف کا کہنا تھا کہ قانون اور آئین میں اگر آئینی عدالتوں کی گجائش ہے تو یہ ضرور ہونی چاہیے، دنیا کے کئی ممالک شمول ترکی میں آئینی عدالتیں موجود ہیں، آئینی ترامیم وقت اور نظریہ ضرورت کے مطابق ہی ہوتی ہیں اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے، صدر اسلام آباد ہائی کورٹ ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد نے کہا کہ قوانین میں اور نظام میں ایسی ترامیم لانی چاہیے کہ یہ پورے قوانین اپ گریڈ اور جدید ہو جائیں، اگر یہ تمام ترامیم کو بہتر طریقے سے کرنا ہے جس سے عوام بھی مستفید ہو تو رائے یہ ہے کہ وکلاء سے بھی مشورہ کیا جائے۔

Comments are closed.