اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 افراد ملازمت سے برطرف

راولپنڈی (آن لائن) ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے اڈیالہ جیل کے لاپتہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 افراد کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے جبکہ ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور ایک وارڈر کی سروس ضبط کر لی ہے جبکہ ایک وارڈر کو معاف کر دیا ہے برطرف ہونے والے دیگر افسران و اہلکاروں میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ (انچارج نفسیاتی وارڈ) اور 2 وارڈڑز شامل ہیں اس ضمن میں سیکریٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نور الامین مینگل نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے برطرف ہونے والوں میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ (ایگزیکٹو) محمد اکرم، افسر انچارج (نفسیاتی وارڈ) اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ریاض خان، وارڈر (بارک انچارج) ناصر محمود اور وارڈر (بیٹ ڈیوٹی شفٹ) عامر عباس شامل ہیں اسی طرح اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ (نائٹ ڈیوٹی افسر) محمود الحسن کی 2 سالہ سروس اور ہیڈ وارڈر (پٹرولنگ افسر) واجد محمود کی 1 سالہ سروس ضبط کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ وارڈر (بیٹ ڈیوٹی) ثقلین جلال کو معاف کردیا گیا ہے ذرائع کے مطابق ان افسران و اہلکاروں کو جیل میں قتل کی انکوائری میں قصوروار ثابت ہونے پر نوکری سے برخاست کیا گیا جیل افسران کے خلاف 29 فروری کوذہنی مریض قیدیوں کیسیل میں حوالاتی کے قتل پر انکوائری جاری تھی ائی جی جیل خانہ جات پنجاب نے قتل کے واقعہ پرانکوائری کاحکم دے رکھا تھا انکوائری میں اس وقت کیڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو محمد اکرم سمیت 7ملازمین کو قصوروار قرار دیا گیاتھا اور رپورٹ کی روشنی میں 4 ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کی گئی تھی جس پر مجاز اتھارٹی نے 30 اگست کو ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کرکے جواب طلب کئے تھے تاہم ڈائریکٹر جنرل ڈائریکٹوریٹ ا?ف مانیٹرنگ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے روبرو سماعت میں بھی ملازمین پیش ہوئے لیکن ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ غیر حاضر رہے یاد رہے کہ ملازمت سے برطرف ہونے والے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم پر اڈیالہ جیل میں بند تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کے لئے غیر قانونی سہولت کاری، انہیں جیل میں موبائل فون کی فراہمی اور پیغام رسانی کے بھی الزامات ہیں یہ بھی یاد رہے کہ مذکورہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ 14 اگست سے اڈیالہ جیل سے پراسرار طور پر لاپتہ ہیں جن کی بازیابی کے لئے ان کی اہلیہ میمونہ ریاض نے ہوم سیکرٹری پنجاب، سیکریٹری دفاع، سپرنٹنڈنٹ جیل، آئی جی پنجاب اور ایس ایچ او تھانہ صدر بیرونی پولیس کو فریق بناتے ہوئے ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے جس پر عدالت نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب اور سی پی او راولپنڈی کو 14 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا ہے۔

Comments are closed.