اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں کسی بھی صورت متوازی عدالتی نظام کی اجازت نہیں دے سکتے ، کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم ) کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کار بلاک کئے جائیں گے ، حکومت حقوق کی بات کرنے والو ں کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہیں ،پاکستان میں کسی کو بھی فساد کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر د اخلہ نے کہا کہ پی ٹی ایم کی جانب سے ریاستی اداروں اور پولیس کو گالیاں دی گئیں، ہمیں جرگے پر اعتراض نہیں، لیکن عدالت قائم نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی بھی صورت متوازی عدالتی نظام کی اجازت نہیں دے سکتے، کالعدم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک کئے جائیں گے۔زارت داخلہ نے پی ٹی ایم پر پابندی عائد کی ہے، ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو لانا جرگہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت حقوق کی بات کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہے
، لیکن پی ٹی ایم کے ساتھ بیٹھنے والوں کے شناختی کارڈ بلاک کریں گے، ہم کسی کو بھی بندوق اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی ایم کا ایک دو سیاسی جماعتوں نے بھی ساتھ دیا تھا، پاکستان میں کسی کو فساد کی اجازت نہیں دی جاسکتی، کسی بھی صورت میں فسادی کو معافی نہیں دی جاسکتی، یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ گالی دیں اور ریاست خاموش رہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ ریاست کے خلاف کام کریں اور ہم خاموش رہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف کسی کام کی اجازت نہیں دی جاسکتی، یہ جاننا ضروری ہے کہ پی ٹی ایم پر کیوں پابندی لگائی گئی، ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی گرفت سخت ہوگی، ان کے ساتھ تقریباً ہر جماعت کے نمائندوں نے ملاقات کی، ہمیں ملاقات سے مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ سپورٹ کرنے سے ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی ایم کی ڈاکیومنٹری بھارتی کمپنی نے بنائی، پی ٹی ایم پر پابندی حکومت کی جانب سے لگائی گئی ہے پی ٹی ایم کو غیرملکی کمپنیوں کی مدد اور فنڈنگ حاصل ہے انہیں غیرملکی فنڈں گ کے ثبوت جلد پیش کریں گے، آپ کے پیچھے جو بھی ماسٹرز ہیں اگر آپ ہمارے ملک میں ایسا کریں گے تو ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گے، ہم سے توقع نہ کریں کہ آپ ہمارے ملک میں فساد کرائیں اور ہم خاموش بیٹھے رہیں، فسادیوں کو کسی صورت معافی نہیں ملے گی۔۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف اسے جرگہ اور دوسری طرف اسے عدالت کہتے ہیں، یہ ہماری حکومت کا فیصلہ ہے ہم کسی بھی صورت میں متوازی عدالت کی اجازت نہیں دیں گے
، پی ٹی ایم پر پابندی اس لیے عائد کی کہ وہ ایک طرف اسٹیٹ کو، پولیس کو گالیاں دے رہے ہیں اور پھر نسلی امتیاز کو بڑھاوا دے کر قوم کو تقسیم کررہے ہیں، اپنی قوم کے حقوق کی بات ضرور کریں مگر غلیظ زبان استعمال کرنا کسی طور درست نہیں، یہ نہیں ہوگا کہ قوم کو حکومت کے خلاف کھڑا کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک دو بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما پی ٹی ایم کی قیادت سے ملے اور کہا کہ حقوق کی بات کرو تو ہم تمہارے ساتھ ہیں مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ حقوق کی بات بھی کرو اور بندوق بھی اٹھاوٴ، ساتھ کچھ اور بات کرو، اس کے بعد رہنماوٴں سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے 54 لوگوں کو اور بلوچستان حکومت نے 34 نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے، صوبائی حکومتیں قانونی طور پر پابند ہیں کہ کسی تنظیم پر پابندی عائد ہو تو اس کے دفاتر سیل کیے جائیں اور دیگر پابندیاں ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اسلام آباد احتجاج کے دوران میں نے توعلی امین گنڈا پورکوڈی چوک نہیں دیکھا، ایک طرف علی امین گنڈا پورکہہ رہے تھے نکل گیا تھا، دوسری طرف وہ کہہ رہے ہیں آئی جی سے ملا تھا، پہلے علی امین گنڈا پورکلیئرکرلیں انہوں نے کہا گیا تھا اور وہاں تھے ایک دن ایک بیان دیتے ہیں دوسرے دن دوسرا بیان د ے دیتے ہیں ۔
Comments are closed.