اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ آف پاکستان نے جاری شدہ تمام فیصلے اپنی ویب سائٹ سے ہٹادیے ہیں اور فیصلوں کے عنوانات اور فیصلہ تحریرکرنے والے ججزکے نام اور مقدمے کی فہرست تودی گئی ہے مگران کی تفصیلات کی جگہ دستیاب نہیں ہیں لکھاہواہے۔اس سے قبل تمام فیصلے موجودتھے اور ان کوڈاون لوڈکیاجاسکتاتھااور پڑھاجاسکتاتھاان فیصلوں کومیڈیامیں باقاعدگی سے رپورٹ بھی کیاجارہاتھاجس میں جسٹس منیب اخترکی جانب سے دیئے گئے فیصلے کوبھی میڈیامیں رپورٹ کیاگیاتھاکہ انھوں نے یہ فیصلہ سات ماہ کے بعدجاری کیاہے۔
صنعتوں پر لیوی ٹیکس سے متعلق جسٹس منیب اختر کا تحریر کردہ فیصلہ 7 ماہ بعد جاری کر دیا گیا۔جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی آخری سماعت 29 فروری 2024 کو ہوئی تھی۔ جس میں لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ کے سامنے 43 صنعتوں پر لیوی ٹیکس سے متعلق فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں تھیں۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سمیت دیگرججزکے فیصلے عنوانات کے ساتھ توموجودہیں مگرفیصلے ڈا?ن لوڈکرنے کے لیے دستیاب نہیں ہیں اور وہاں( not available )لکھاگیاہے۔ذرائع کاکہناہے کہ ابھی اس حوالے سے کوئی بات واضح نہیں ہوسکی ہے کہ یہ فیصلے کیوں ہٹائے گئے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ کیابنی ہے ،یاپھر کسی جج نے کوئی شکایت کی ہے تاہم اس بارے ابھی تک حتمی بات سامنے نہیں آسکی ہے کہ یہ فیصلے ویب سائٹس سے کیوں ہٹائے گئے ہیں۔
Comments are closed.