اسلام آباد(آن لائن) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس نمبرز پورے ہیں تاہم حکومت آئین اور قانون کے مطابق کام کرنا چاہتی ہے،پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئینی ترامیم اتفاق رائے سے کی ہیں۔پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت اپنا زور لگانے کے بجائے اتفاق رائے چاہتی ہے۔ پوری کوشش ہو گی کہ تمام جماعتوں سے مشاورت کر کے متفقہ مسودہ لا سکوں،اگر اتفاق رائے نہ ہوا تو حکومت کا یہ موقف کہ وقت ضائع نہ کیا جائے درست ہو گا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی تفصیلی میٹنگ چلی، جس میں تمام جماعتوں نے رائے دی ہے،پیپلز پارٹی نے اپنے اوریجنل ڈرافٹ کی تجاویز جس میں آئینی عدالت سے متعلق امور ہیں وہ کمیٹی میں پیش کیا ،ہم نے یہ ڈرافٹ حکومت کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کے سامنے پیش کیا ،اس کے علاوہ حکومت نے جو وکلاء سے بحث کی اسکے نکات بھی اس کمیٹی میں پیش ہوئے ،وزیر قانون نے وکلا کیساتھ ایک تفصیلی بحث بھی سامنے آئی ہے،جو وکلا کی تجاویز سامنے آئیں وہ بھی پیش کی گئیں ،اپوزیشن جماعتوں نے بھی اپنا تبصرہ پیش کیا ،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنا موقف دہرایا کہ پیپلز پارٹی کیساتھ اتفاق رائے سے مسودہ بنانا چاہتے ہیں ،ہم نے بھی اس بات کو دہرایا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے کرکے آئینی ترمیم ہو ،کوشش بھی یہی تھی آج بھی یہی بات کہتے ہیں کل بھی یہی کوشش ہوگی
،ہم صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں کرنا چاہتے ،وزیر قانون پر بڑی تنقید ضرور ہوئی کہ آپ نے سب کیساتھ اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش نہیں کی ،بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت بہت پر اعتماد ہے کہ ان کے پاس نمبر گیم ہیں ،وزیر قانون نے بتایا ان کے پاس دو تہائی اکثریت موجود ہے ،مگر ہم تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے اتفاق رائے کیلئے یہاں بیٹھے ہیں ،میں ان کی بات کو سراہتا ہوں مگر گزشتہ ماہ سے اب تک اتفاق رائے کیلئے ہی کوشش ہورہی ہے ،مگر کب تک حکومت ہمیں اتفاق رائے کیلئے سپیس دے گی کہ کتنا ٹائم دے گی ،ایسی صورت میں جب ایس سی او ہورہا ہے، اس صورت میں میں بھرپور کوشش کررہا ہوں کہ اتفاق رائے قائم ہو ،اگر اتفاق رائے میں ٹائم لگتا ہے تو شاید حکومت اپنے اس آئینی قانونی حق کو استعمال کرے اور اسے موو کرے ،مگر ہماری پوری کوشش ہے اور ہم نے ہمیشہ یہی موقف رکھا کہ ایک مکمل اتفاق رائے قائم ہو ،اس میں کوئی شک نہیں کہ 58 ٹو بی کے معاملے پر جلدی کی گئی تھی اور یہ ایک مثال ہے،بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ حکومت کا شکر گزار ہوں کہ ہماری ضد پر آپ کھیلے ہیں،یہ حکومت تو ایک مہینے سے مجھے اسپیس دے رہی ہے کہ چلیں کوئی کنسینسز بنے،آج تک پیپلزپارٹی کا صرف حتمی ڈاکومنٹ سامنے آیا،مولانا کا باقاعدہ طور پر ڈرافٹ نہیں ملا ہے،میرا ڈرافٹ ایک ہفتے سے زیادہ کامران مرتضیٰ کے پاس ہے،بہتر ہے کہ جے یو آئی کے ساتھ اب یہ کلیئر کر لوں کہ ہمارا ڈرافٹ تو موجود ہے۔بلاول کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت موجود پھر بھی اتفاق چاہ رہی تویہ ویلکم اقدام ہے،حکومت کب تک اپنا ٹائم فریم چھوڑ کر ہمیں سپیس دے گی،
اس لئے میری پوری کوشش ہے کہ مسلسل انگیج کرکے حکومت کے سامنے سیاسی مشاورت سے متفق مسودہ رکھ سکوں ،حکومت آئین اور قانون کے مطابق کام کرنا چاہتی ہے،پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئینی ترامیم اتفاق رائے سے کی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری سے صحافی نے پوچھا کہ آپ نے نواز شریف، مولانا سمیت سب سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، آج پی ٹی آء سمیت دیگر سے بھی مشاورت ہوگئی مگر اتفاق رائے پر کس حد تک قائل کرسکے؟ اگر اتفاق رائے نہ ہو پایا تو کیا حکومت جو آپ نے بقول پر اعتماد ہے اسے حق نہیں کہ وہ آئینی ترمیم کیلئے آگے بڑھے جس کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ کا جواب نہ صرف اپنی جگہ پر بہتر بلکہ انتہائی اہم ہے اور اپنی جگہ پر موجود ہے ،حکومت کا شکر گزار ہوں کہ ہمارے اصرار پر کہ سب سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہونا چاہئے ،ہمیں حکومت نے مکمل وقت دیا اور ستمبر سے ہم اس پر کوشاں ہیں،اگر مکمل اتفاق رائے نہ ہوا تو حکومت کب تک انتظار کرے گی؟ ،ابھی تک صرف پیپلز پارٹی کا مکمل مسودہ سامنے آیا ہے،جے یو آئی کا مسودہ ابھی تک ہمیں نہیں ملا،ہمارا مسودہ دو ہفتے قبل کامران مرتضیٰ کو مل گیا تھا،ہماری تجویز پر ہی اتفاق ہوا کہ قانون سازی ایس سی او سمٹ کے بعد کی جائے،لیکن میں کب تک صرف اپنا مسودہ لے کر پھرتا رہوں گا،اتفاق رائے نہ ہوا تو پھر حکومت کو اختیار ہے وہ 25 سے بہت پہلے بھی آئینی ترمیم لاسکتی ہے ،پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کو انگیجمنٹ کرنے کی کوشش کی ،ہم چاہتے ہیں کہ سیاستدان اور پارلیمان اپنی سپیس واپس لے۔
Comments are closed.