15 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے ا حتجاج کے اعلان نا قابل قبول ، فیصل کریم کنڈی

اسلام آباد ( آن لائن) گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی نے پندرہ اکتوبر کو پی ٹی آئی کے ا حتجاج کے اعلان کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوے اسے ملک دشمن سازش قرار دے دیا ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا ایس سی او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان کرکے پی ٹی آئی کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ یہ لوگ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ۔ انہوں نے کہا کانفرنس میں دنیا بھر سے مہمان آرہے ہیں ایسے موقع پر انکا یہ احتجاج کا اعلان سازش ہے ۔ انکا ایجنڈا ملک دشمنی پر مبنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اتنے اہم ایونٹ کے موقع پر تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہیں اگر کوئی نہیں ہے تو و ہ ملک د شمنی پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کاا من برباد ہو چکا اور ان لوگوں کی تمام تر توجہ فساد اور انتشار پر ہے ۔

ہم ایس سی او اجلاس میں ملک کا بہتر تشخص دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں ۔ یہ ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ۔ یہ ہمیں بتائیں کہ ڈی چوک میں احتجاج سے کیا آئینی ترامیم رک جائیں گی یا بانی پی ٹی آئی رہا ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی نے ہمیشہ امن اور مذاکرات کی بات کی۔ ہماری جماعت نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں ۔بھٹو شہید ہوے، بی بی شہید ہوئیں ، انکے دوبھائی قتل ہوئے ۔ ہم نے کبھی ملک مخالف نعرہ نہیں لگایا بلکہ ملک کھپے کا نعرہ لگا یا۔ میری سب سے اپیل ہے کہ ملک کے لئے اکٹھے ہو جائیں۔ ملک میں امن و امان کا قیام ہمارا وون پوائنٹ ایجنڈا ہو نا چا ہیے ۔ قبل ازیں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے علامہ اقبال یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب نے میرے اور یونیورسٹی کے طلباء کے درمیان پْل کا کردار ادا کیا،پاکستانی طلباء میں بہت ٹیلنٹ ہے،ملک میں جب کاروبار فروغ پاتا ہے ریاست ٹیکسز کی طرف بڑھ جاتی ہے،اچھی چیز کی حوصلہ افزائی کرنی ہے،خیبرپختونخواہ میں بہت تجربہ کار افراد پائے جاتے ہیں،اس وقت سب سے زیادہ یوتھ خیبرپختونخوا میں ہے

،اس وقت خیبرپختونخوا میں 34 یونیورسٹیز ہیں ،26 یونیورسٹیز میں وائس چانسلر موجود نہیں ہیں،ملک میں تعلیمی حالات بہتر ہونے چاہیے،پاکستان میں نوجوانوں کو روزگار اور آگے بڑھنے کے بہترین مواقع موجود ہیں ،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو کاروباری مواقع پیدا کرنے کے لئے سہولت فراہم کرے ،خیبر پختونخوا ملک کے لئے بڑی تجربہ گاہ ہے افغانستان میں ہمارے بے شمار مسائل ہیں، کے پی حکومت نے اپنی 34 ٰیونیورسٹیز کے لیے صرف 3 ارب مختص کئے جو انتہائی کم ہیں ،نوجوانوں کو پارٹیوں کے منشور پر توجہ دینی چائیے،ہم چاہتے ہیں طلباء تنظیموں پر پابندی نہ ہو،ہمارے ملک کے نوجوان سیاست میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں،لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ سیاسی جماعت کا مینوفیسٹو نہیں پڑھتے،آج دیکھیں قائد اعظم یونیورسٹی میں کیا ہو رہا ہے،سیاست کا ملک میں مثبت کردار ہونا چاہیے،ہمارے ملک کے نوجوانوں کے ملک کی ڈائریکشن طے کرنی ہے،جب میں نے گورنر کا عحدہ سنبھالا وہاں کوئی سوشل میڈیا نہیں تھا۔

Comments are closed.