اسلام آباد ( آن لائن )پیپلز پارٹی کے بعد حکومت اور جے یو آئی (ف) نے بھی آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنے مسودے پارلیمانی خصوصی کمیٹی میں ہفتہ کو پیش کردیئے ہیں جن پر غور کیلئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جس کا اجلاس آج (اتوار )کو ہوگا جبکہ پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا آئندہ اجلاس کل بروز پیر سہ پہر ساڑھے تین بجے ہوگا ۔ تحریک انصاف نے ابھی تک کوئی مسودہ آئینی ترامیم کے حوالے سے نہیں دیا جبکہ پیپلز پارٹی اور حکومتی مسودے پر جے یو آئی (ف) اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات زرداری ہاؤس میں ہوئے ۔ حکومتی مسودے میں بھی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جو کہ نہ صرف وفاق بلکہ چاروں صوبوں میں بھی قائم ہونگی ۔سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے عہدے کی مدت تین سال ہوگی‘ وفاقی آئینی عدالت کے باقی ممبران کا تقرر صدر چیف جسٹس کی مشاورت سے کرینگے جج کی عمر 40سال ،تین سالہ عدالت اور دس سالہ وکالت کا تجربہ لازم ہوگا۔ پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں سید خورشید احمد شاہ کی صدارت میں ہوا جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے علاوہ کمیٹی کے دیگر اراکین نے بھی شرکت کی جبکہ ویڈیو لنک پر مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کے اسد قیصر بھی اجلاس میں شامل ہوئے ۔
تحریک انصاف کی طرف سے اجلاس میں بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب نے شرکت کی ۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران جے یو آئی (ف) اور حکومت نے اپنے آئینی مسودے پیش کردیئے جن پر مشاورت جاری ہے ۔ حکومتی مسودے میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی جس کے پہلے چیف جسٹس کا تقرر صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر کرینگے ۔ آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس اور تین سینئر ججز کا تقرر کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا۔ کمیٹی میں چار اراکین پارلیمنٹ ، وفاقی وزیر قانون اور پاکستان بار کونسل کا نمائندہ شامل ہوگا ۔ آئینی عدالت کے ججز کے تقرر کیلئے کمیشن تشکیل دیا جائیگا جس کے سربراہ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت ہونگے‘ کمیشن میں آئینی عدالت کے پانچ سینئر ترین ججز ممبران ہونگے ۔ وفاقی وزیر قانون‘ اٹارنی جنرل‘سپریم کورٹ بار کا نمائندہ اورچار اراکین پارلیمنٹ کمیشن کا حصہ ہونگے ۔سپریم کورٹ کے ججز کے تقرر کیلئے کمیشن میں چیف جسٹس سپریم کورٹ اور پانچ سینئر ترین جج شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔وفاقی آئینی عدالت میں چاروں صوبوں کی یکساں نمائندگی ہوگی‘ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مدت تین سال جبکہ عمر کی بالائی حد 68سال ہوگی ۔ سپریم کورٹ کے ججز کے تقررکیلئے کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس سپریم کورٹ کرینگے ۔
ہائی کورٹس کے ججز کے تقررکیلئے کمیشن میں متعلقہ چیف جسٹس اور سینئر ترین جج شامل ہونگے ۔ ہائی کورٹ کے ججز کے تقرر کیلئے صوبائی وزیر قانون اور ہائیکورٹ بار کا نمائندہ کمیشن کا حصہ ہوگا ۔سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے عہدے کی مدت تین سال ہوگی‘ وفاقی آئینی عدالت کے باقی ممبران کا تقرر صدر چیف جسٹس کی مشاورت سے کرینگے جج کی عمر 40سال ،تین سالہ عدالت اور دس سالہ وکالت کا تجربہ لازم ہوگا ۔ جج کی برطرفی کیلئے وفاقی آئینی کونسل قائم کی جائے گی کسی بھی جج کی برطرفی کی حتمی منظوری صدر دینگے ۔ وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں ہوسکے گا‘ چاروں صوبائی آئینی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل وفاقی آئینی عدالت میں دائر ہوسکے گی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر بھی آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ہوگا سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تین سینئر ترین ججز میں سے ہوگا ۔جج کی اہلیت رکھنے والے شخص کیلئے نام پر مشاورت کے بعد وزیراعظم معاملہ صدر کو بھجوائینگے ۔
Comments are closed.