ایس سی او کونسل کی سربراہی پرپاکستان کو مبارکباد، بھرپور تعاون کریں گے، بھارتی وزیرخارجہ

اسلام آباد(آن لائن)بھارتی وزیرخارجہ سبرامینم جے شنکر نے کہا ہے کہ ہمیں دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ دیانتداری سے بات چیت ضروری ہے‘ بھارت پاکستان کی ایس سی او کی صدارت کی میعاد کے دوران بھرپور تعاون کرے گا‘ اعتماد کی کمی، دوستی اور اچھے ہمسائیوں کے اصولوں میں کوئی کمی ہے توخوداحتسابی کرنی چاہیے، یہ صرف ہمارے اپنے فائدے کے لیے نہیں ہے‘ دنیا کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، عالمگیریت اور توازن ایسی حقیقتیں ہیں جن سے فرار ممکن نہیں اس میں ہمارے لئے نئے مواقع پید اہورہے ہیں۔بدھ کو یہاں بھارت کے وزیرخارجہ جے شنکر نے پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی ہیڈز آف کونسل کی سربراہی سنبھالنے پر مبارک باد دی۔اسلام آباد میں ایس سی او سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کی ایس سی او کی صدارت کی میعاد کے دوران بھرپور تعاون کرے گا۔ہمارا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ہم ایک ایسے وقت میں مل رہے ہیں جب دنیا بھر میں حالات پیچیدہ ہیں، دو بڑے تنازع جاری ہیں جن کے پوری دنیا پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کورونا وبا نے ترقی پذیرممالک کو بری طرح متاثرکیا‘شدید موسمی واقعات، سپلائی چین کی غیر یقینی صورتحال اور مالیاتی عدم استحکام ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔

ایس سی او کے رکن ممالک کو قرضوں سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ایس سی او کے چارٹر کے بنیادی مقاصد باہمی اعتماد، دوستی اورہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات کا فروغ ہیں۔ علاقائی طور پریہ بہت سے پہلوؤں کے ساتھ مشترکا تعاون ہے۔ چارٹر میں درپیش چیلنجز کو بھی بھرپور طریقے سے واضح کیا گیا ہے۔ ایس سی او نے جن تین بڑے اور بنیادی چیلنجز سے نمٹنے کا عزم کیا ہے ان میں پہلا دہشت گردی، دوسرا علیحدگی پسندی اور تیسرا انتہا پسندی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایس سی او کے چارٹر کو موجودہ صورتحال میں دیکھا جائے تو ان تینوں سے نمٹنے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ان چیلنجز کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ دیانت داری سے بات چیت ضروری ہے۔ باہمی اعتماد کی کمی یا ناکافی تعاون کے باعث اگر ہمسایوں کے تعلقات اور دوستی اچھی نہیں تو اس کی وجوہات کا پتا لگانا اور ان وجوہات کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔بھارتی وزیرخارجہ نے کہا کہ قرض کا بوجھ ایک سنگین مسئلہ ہے، دنیا پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں پیچھے ہے، ٹیکنالوجی ایک طرف نئی امیدیں پیدا کر رہی ہے تو دوسری طرف مشکلات بھی لا رہی ہے، ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے ایس سی او کے اراکین کیا حکمت عملی اپنائیں؟ہمیں ایماندارانہ گفتگو کی ضرورت ہے، اعتماد کی کمی، دوستی اور اچھے ہمسائیوں کے اصولوں میں کوئی کمی ہے توخوداحتسابی کرنی چاہیے، یہ صرف ہمارے اپنے فائدے کے لیے نہیں ہے۔ دنیا کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، عالمگیریت اور توازن ایسی حقیقتیں ہیں جن سے فرار ممکن نہیں

، ان تبدیلیوں نے تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری و دیگر تعاون کے شعبوں میں مواقع پیداکیے ہیں، اگر ہم ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں تو ہمارا خطہ بہت زیادہ ترقی کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ناصرف ہم بلکہ دوسرے بھی ہماری کاوشوں سے تحریک لے سکتے ہیں، ہمارا تعاون باہمی احترام اور خودمختاری کی برابری پر مبنی ہونا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے، یہ تعاون حقیقی شراکت داری پر مبنی ہو، نہ کہ یکطرفہ ایجنڈوں پر۔ ترقی اور استحکام کا دارومدار امن پر ہے، امن کا مطلب دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنا ہے، سرحد پار دہشتگردی، انتہا پسندی، علیحدگی پسندی جیسی سرگرمیاں جاری رہیں گی تو تجارت، عوامی سطح پر رابطے کا فروغ مشکل ہو جائے گا، سوچنا چاہیے حالات مختلف ہوں تو ہم کتنے بڑے فائدے حاصل کرسکتے ہیں۔جے شنکرنے کہا کہ آج اسلام آباد میں ہمارے ایجنڈے سے ہمیں ان امکانات کی ایک جھلک ملتی ہے، صنعتی تعاون سے مسابقت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں، ایم ایس ایم ای کے درمیان تعاون سے روزگار پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، ہماری مشترکہ کوششیں وسائل میں اضافے اورسرمایہ کاری کو فروغ دے سکتی ہیں، کاروباری برادری کو بڑے نیٹ ورکس سے فائدہ ہو گا۔انہوں نے کہا کہ رابطے کا فروغ نئی کارکردگیوں کو جنم دے سکتا ہے، لاجسٹکس اور توانائی کے شعبوں میں بڑی تبدیلیاں آسکتی ہیں، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں پراقدامات کیلئے تعاون کے وسیع مواقع ہیں، متعدی اور غیر متعدی امراض کا علاج سستی اور قابل رسائی دواسازی کیذریعے بہتر ہوسکتا ہے، صحت، خوراک اور توانائی کی سکیورٹی کے شعبوں میں ہم سب مل کر بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں

Comments are closed.