چیف جسٹس پاکستان کا تقرر‘حکومتوں نے ہمیشہ مرضی کے مطابق نوٹیفیکیشن جاری کیا

جسٹس تصدق حسین جیلانی کا 15 دن پہلے ہوا ناصر الملک کا 4 دن ، جواد ایس خواجہ کا 12 دن، جسٹس عمر عطا بندیال کا 20 دن‘ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 84 دن پہلے نوٹیفکیشن ہوا تھا

اسلام آباد(آن لائن)ٹ چیف جسٹس پاکستان کے تقرر کے لیے حکومت نے اپنی مرضی کے مطابق ہی نوٹیفیکیشن جاری کیاہے ایسے بھی چیف جسٹس گزرے ہیں کہ جن کا نوٹیفکیشن جانے والے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے صرف چار دن قبل جاری کیا۔گزشتہ 11 برس میں چیف جسٹس بننے والوں کے لیے مختلف حکومتوں نے اپنی مرضی سے نوٹیفیکیشن جاری کیے۔جسٹس تصدق حسین جیلانی کا 2013 میں بطور چیف جسٹس نوٹیفکیشن 15 دن پہلے ہوا جسٹس ناصر الملک کا 4 دن پہلے، جسٹس جواد ایس خواجہ کا 12 دن پہلے، جسٹس انور ظہیر جمالی کا 11 دن پہلے، جسٹس ثاقب نثار کا 23 دن پہلے، جسٹس آصف سعید کھوسہ کا 14 دن پہلے، جسٹس گلزار احمد کا 17 دن پہلے، جسٹس عمر عطا بندیال کا 20 دن پہلے جبکہ ون اینڈ اونلی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 84 دن پہلے نوٹیفکیشن ہوا تھا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ کا نوٹیفکیشن 11 دن پہلے ابھی تک نہیں ہواجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے علاؤہ پچھلے 11 سال میں تمام چیف جسٹس کے نوٹیفکیشنز ایک ماہ سے کم مدت قبل ہوتے رہے بلکہ جسٹس ناصر الملک کا 4 دن پہلے جاری ہوا۔

Comments are closed.